سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 18 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 18

33۔32۔مرزا غلام احمد صاحب کو مسیح موعود اور خدا کا برگزیدہ انسان سمجھتا ہوں۔مجھے ان سے اتنی محبت تھی کہ جتنی میں نے ان کی اولاد سے کی۔تم سے نہیں کی۔قوم کو خدا کے سپر د کرتا ہوں۔تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خدا کی کتاب کو پڑھنا پڑھانا اور عمل کرنا۔میں نے بہت کچھ دیکھا پر قرآن جیسی چیز نہ دیکھی۔بے شک یہ خدا کی کتاب ہے باقی خدا کے سپرد۔میاں عبدائی صاحب کے علاوہ آپ نے اپنی بیٹی امتہ اکئی صاحبہ کو پیغام دیا کہ میرے فوت ہو جانے کے بعد میاں صاحب (حضرت خلیفۃ اسیح الثانی) سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں بھی درس دیا کریں۔جمعہ کے دن سوا دو بجے کے قریب حضرت خلیفتہ المسح الاول کی وفات ہوئی۔تقریباً چھپیں گھنٹے کے بعد دوسرے دن نماز عصر کے بعد جماعت احمدیہ نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کو دوسرا خلیفہ منتخب کر لیا۔یہ انتخاب بیت نور میں ہوا۔انتخاب سے پہلے حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے ان دو ہزار لوگوں کو حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل کی وصیت پڑھ کر سنائی۔بیعت کے بعد دعا ہوئی۔پھر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے کھڑے ہو کر درد سے بھری ہوئی تقریر فرمائی۔فرمایا میں کمزور اور بہت ہی کمزور انسان ہوں مگر میں خدا سے اُمید رکھتا ہوں کہ جب اس نے مجھے خلیفہ بنایا تو وہ یہ بوجھ اٹھانے کی بھی طاقت دے گا میں تمہارے لئے دعا کروں گا۔تم میرے لئے دعا کرو۔دعا اور تقریر کے بعد حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے میدان میں حضرت خلیفۃ اسبیع الاول کی نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں تقریبا دو ہزار مرد شریک ہوئے۔پھر سب حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی نعش مبارک لے کر بہشتی مقبرہ کی طرف روانہ ہوئے۔اور اس مبارک انسان کے مبارک جسم کو ہزاروں دعاؤں کے ساتھ اس کے محبوب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پہلو میں سلا دیا۔آپ نے ایک دفعہ سرسید سے خط لکھ کر پوچھا کہ جاہل آدمی پڑھ کر عالم بنتا ہے۔عالم ترقی کر کے حکیم ہو جاتا ہے۔حکیم ترقی کرتے کرتے صوفی بن جاتا ہے۔مگر جب صوفی ترقی کرتا ہے تو کیا بنتا ہے۔سرسید مرحوم نے جواب دیا جب صوفی ترقی کرتا ہے تو نورالدین بنتا ہے۔تو شکل علی اللہ آپ کی زندگی کی سب سے پہلی اور نمایاں بات اللہ پر توکل ہے۔جو آپ کی زندگی میں بڑی شان سے نظر آتی ہے۔آپ کا خدا سے ایسا ذاتی تعلق تھا کہ آپ کی ہر ضرورت پوری کرنے کا خدا انتظام کر دیتا۔اوراس بارہ میں آپ کی زندگی میں اتنے واقعات آئے جن کا شمار ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے۔میری آمدنی کا راز خدا نے کسی کو بتانے کی اجازت نہیں دی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ کو کوئی ضرورت پڑی تو آپ نے دعا مانگی۔مصلی اٹھایا تو ایک پونڈ پڑا ہوا تھا۔اسی طرح ایک کشمیری دوست نے چارسور و پیہ بطور امانت دیئے۔چند دن بعد اس کا تار آ گیا