سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 5 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 5

6 مدرسے کے زمانے میں آپ کو کتابیں جمع کرنے کا شوق ہو گیا اور سہی آپ کا بچپن کا شوق تھا۔عمر بھر کبھی کوئی کھیل نہیں کھیلا۔صرف ایک ہی کھیل کھیلا ہے اور وہ تیرنا ہے۔آپ کو تیرنا خوب آتا تھا۔بعض دفعہ بڑے بڑے دریاؤں میں بھی تیرتے رہے ہیں۔اس کے علاہ گھوڑے کی سواری کا بھی شوق تھا۔خود فرماتے ہیں۔ہم چھوٹے تھے۔ہمارے والد صاحب لگام چھپا دیتے تھے۔تا چھوٹے بچے تیز گھوڑوں پر سوار ہو کر گر نہ جائیں۔مگر ہم گھوڑے کے گلے کی رہی ہی سے گھوڑے کو چلا لیتے تھے۔آپ کے وطن میں پنجابی بولی جاتی تھی۔پہلی دفعہ آپ نے ایک ہندوستانی سپاہی کو اردو زبان میں بات کرتے سنا۔جسے آپ نے بے حد پسند کیا۔حصول علم و ملا زمت 1853 ء کے قریب جب آپ کی عمر بارہ سال ہوئی ، آپ کو اپنے بڑے بھائی مولوی سلطان احمد صاحب کے پاس لاہور آنا پڑا۔جنہوں نے مدرسہ کھول رکھا تھا۔یہاں آ کر آپ کو ایک بیماری ہو گئی۔اس وقت آپ کے دل میں طبی تعلیم کا شوق پیدا ہوا۔مگر آپ کے بھائی صاحب نے آپ کو طب پڑھانے کی بجائے منشی محمد قاسم صاحب کے پاس فارسی کی تعلیم کے لئے بھیجوا دیا۔دو سال کے بعد آپ بھیرہ واپس آ گئے۔آپ کے بھائی صاحب نے عربی کی تعلیم دینی شروع کی۔آپ نے بہت جلد عربی کی کتابیں پڑھنی شروع کر دیں۔1857ء میں کلکتہ کے ایک تاجر آپ کے مکان میں آئے اور آپ کی پڑھائی کے بارہ میں کہا کہ آپ جو اس کو دوسری کتابیں پڑھاتے ہیں خدا کی کتاب کیوں نہیں پڑھاتے۔اور اس کے ساتھ ہی ایک با ترجمہ قرآن شریف آپ کو دے دیا۔چنانچہ آپ کے بھائی صاحب نے آپ کو وہی پڑھانا شروع کر دیا۔اس وقت سے آپ کو قرآن مجید سے محبت پیدا ہوگئی جو کہ ساری عمر نہ صرف قائم رہی بلکہ مسلسل بڑھتی رہی۔1855-56ء میں روم اور روس کی لڑائی جاری تھی آپ ان دنوں اپنے وطن بھیرہ میں تھے۔آپ کے سب بہن بھائی ان کے بچے سب ایک رات گھر میں جمع تھے اور سوائے آپ کے سب شادی شدہ تھے۔آپ نے اپنے ابا امی سے پوچھا کہ کتنے مسلمان مارے جاتے ہیں۔آپ کے گھر میں اللہ کے فضل سے بہت رونق ہے۔اگر مجھے اللہ کی راہ میں قربان کر دیں تو بہت ثواب ہو گا۔اتنے سارے بچوں میں سے ایک کو اللہ کے رستے میں دے دینا کوئی بڑی بات نہیں۔آپ کو خدا کے ہاں سے بہت ثواب ملے گا۔مگر آپ کی والدہ صاحبہ نے کہا کہ میں اپنی زندگی میں یہ بات کیسے برداشت کر سکتی ہوں۔میں چاہتی ہوں کہ جب میں مروں آپ میرے پاس ہوں۔چند ہی دنوں کے بعد آپ کے ابا امی کے سامنے ہی باقی بچے فوت ہونے شروع ہو گئے حتی کہ سارا گھر خالی ہو گیا۔آپ ان دنوں جموں میں تھے۔ایک دفعہ وطن آئے۔ایک کمرہ میں سوئے ہوئے تھے کہ آپ کی والدہ ساتھ کے کمرہ میں آئیں اور اتنی زور سے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا کہ آپ کی آنکھ کھل گئی۔آپ نے اپنی والدہ کو صبر کی ہدایت کی۔