سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ

by Other Authors

Page 6 of 20

سوانح حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل نوراللہ مرقدہ — Page 6

9 8 اور عرض کیا۔اماں جان! آپ کو معلوم ہے کہ گھر کیوں خالی ہو گیا ہے۔فرمایا خوب یاد ہے یہ اس غلطی کا نتیجہ ہے جو میں نے آپ کی بات کا انکار کیا تھا۔اور اب تو میں یہ بھی جانتی ہوں کہ میں اس وقت مروں گی جبکہ تم میرے پاس نہیں ہو گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔(مرقاۃ الیقین صفحہ 200-199) 1858ء کے قریب جب آپ کی عمر 18 سال کی تھی آپ نے نارمل سکول راولپنڈی میں داخلہ لیا۔اور اتنی اچھی کامیابی حاصل کی کہ آپ پنڈ دادنخان کے انگریزی سکول کے ہیڈ ماسٹر بنا دیئے گئے۔چار سال تک ہیڈ ماسٹر رہے۔جب آپ ہیڈ ماسٹر تھے تو ایک دفعہ وہاں انسپکٹر سکول آ گئے۔آپ اس وقت کھانا کھا رہے تھے۔آپ نے انہیں بھی کھانے کی دعوت دی۔لیکن انہوں نے دعوت قبول کرنے کی بجائے کہا کہ آپ نے مجھے پہچانا نہیں؟ میں انسپکٹر ہوں اور میرا نام خدا بخش ہے۔آپ نے جواب دیا آپ بہت ہی نیک آدمی ہیں۔ماسٹروں کے ہاں کھانا نہیں کھاتے یہ کہہ کر آپ فوراً اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔اور وہ بیچارہ اپنا گھوڑا خود ہی پکڑے انتظار کرتا رہا کہ شاید ابھی یہ کسی لڑکے کو میرا گھوڑا پکڑنے کے لئے بھیج دیں۔جب آپ نے کوئی لڑکا نہ بھیجا۔تو اس نے خود کہا کہ کسی لڑکے کو تو بھیج دیں جو میرا گھوڑا پکڑ لے۔آپ نے جواب دیا کہ آپ مدرسوں کے گھر کا کھانا تو کھاتے ہی نہیں اس کو رشوت سمجھتے ہیں پھر ہم لڑکے کو گھوڑا پکڑنے کے لئے کیسے کہہ دیں کیونکہ پھر آپ کہیں گے کہ اس کو باندھ بھی دو۔گھاس بھی ڈال دو۔اتنی دیر میں اس کے نوکر آ گئے۔انہوں نے گھوڑے کو باندھا۔کھانا تیار کیا۔اس نے کہا میں لڑکوں کا امتحان لوں گا۔حضور لڑکوں کو تیار کر کے علیحدہ جا بیٹھے وہ خود ہی امتحان لیتا رہا۔بعد میں کہنے لگا کہ سنا ہے آپ بڑے قابل ہیں اور بہت عمدہ سند حاصل کی ہے۔شاید اس لئے اس قدر فخر ہے۔آپ نے جواب دیا کہ ہم اس چھوٹے سے کاغذ کو خدا نہیں سمجھتے اور ایک شخص کو کہا کہ بھائی ذرا اس بت کو تو لاؤ۔اور اس کے سامنے ہی اپنی سند کا کاننڈ پھاڑ ڈالا اور ثابت کر دیا کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہیں سمجھتے۔اسے بہت افسوس ہوا اور وہ کہنے لگا کہ آپ کا یہ نقصان میری وجہ سے ہوا ہے۔آپ فرماتے تھے کہ جب سے میں نے سند پھاڑی ہے۔تب ہی سے میرے پاس اتنا روپیہ آتا ہے جس کی کوئی حد نہیں۔خانہ کعبہ کے لئے سفر -25-24 سال کی عمر میں آپ خدا کے پہلے گھر کی زیارت کے لئے روانہ ہوئے۔بمبئی سے روانگی کے وقت اپنے وطن کے پانچ آدمی حج کو جاتے ہوئے مل گئے۔جن کی وجہ سے آپ کو جہاز میں بڑا آرام ملا۔مکہ معظمہ کی برکت والی زمین تک پہنچنے سے پہلے ہی راستہ میں اللہ تعالیٰ کی مدد کے کئی واقعات پیش آئے۔آپ نے کسی سے سنا تھا کہ بیت اللہ نظر آتے ہی جو دعا کی جاتی ہے ضرور قبول ہو جاتی ہے۔آپ نے بیت اللہ پہ نظر پڑتے ہی یہ دعا مانگی۔کہ اے اللہ ! میں تو ہر وقت ضرورت مند ہوں۔میں کون کون سی دعا مانگوں۔پس میں یہی دعا مانگتا ہوں کہ جب میں ضرورت کے وقت جو کچھ تجھ سے مانگوں تو اسے قبول کر لیا کر۔اس مبارک وقت کی یہ دعا خدا کے فضل سے ایسے شاندار رنگ میں پوری