حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 4
5 4 میری زندگی کا پہلا دور بیٹا محمد ہمیں دے دو تا کہ ہم اسے قتل کر دیں کیونکہ وہ ہمارے بجھوں کو بُرا بھلا کہتا ہے اور ایک خدا کو ماننے کے لئے کہتا ہے۔ابو طالب نہ مانے اور کہنے لگے کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ میں جب رسول اللہ نے دعویٰ نبوت فرما یا اُس وقت اکثر خاندانوں نے آپ کی مخالفت تمہارا بیٹا لے کر اُسے کھلاؤں پلاؤں اور تمہیں اپنا بیٹا دے دوں تا کہ تم اسے مارڈالو۔خدا کی ان میں ایک ہمارا خاندان بنو مخزوم بھی تھا۔ہمارے خاندان کی مخالفت کی وجہ یہ تھی کہ کی قسم یہ کبھی نہیں ہو سکتا ! اس کے بعد ہم نے رسول اللہ اور اُن کے ماننے والوں کو زیادہ دکھ رسول اللہ قبیلہ بنو ہاشم میں سے تھے اور بنو ہاشم سے بنو مخزوم کا عام طور پر جھگڑا رہتا تھا۔اس دینے شروع کر دیے۔حتی کہ مسلمانوں کے ایک حصہ کو حبشہ ہجرت کرنی پڑی جہاں ایک رحم خاندانی دشمنی کی وجہ سے ہم رسول اللہ کے دشمن بن گئے۔ابوجہل جس نے رسول اللہ کو بہت دل با دشاہ نجاشی حکومت کرتا تھا۔اور اُس کے ملک میں ہر ایک مذہب کے لوگ آرام سے رہ دُکھ دیئے وہ بھی ہمارے ہی خاندان میں سے تھا۔اور میرے ایک چا کا بیٹا تھا۔چنانچہ ایک سکتے تھے۔لیکن قریش میں سے کچھ لوگ حبشہ کے بادشاہ کے پاس گئے ، تاکہ مسلمانوں کو وہاں سے نکلوا دیں۔جو لوگ مسلمانوں کو نکلوانے بادشاہ کے پاس گئے تھے اُن میں میرا بھائی مرتبہ کسی نے ابو جہل سے پوچھا کہ تم رسول اللہ کو کیوں نہیں مان لیتے ؟ تو وہ کہنے لگا:۔ہم اور بنو ہاشم ہمیشہ ایک دوسرے کے مخالف رہے۔بنو ہاشم نے مہمانداریاں کیں تو ہم نے بھی کیں۔انہوں نے خوں بہا دیئے تو ہم نے بھی بہا دیئے۔انہوں نے فیاضیاں کیں تو ہم نے اُن سے بڑھ کر کیں۔یہاں تک کہ جب ہم نے اُن کے کندھے کے ساتھ کندھا ملا دیا تو اب بنو ہاشم پیغمبری کے دعویدار بن بیٹھے ہیں۔خدا کی قسم ہم اس پیغمبر پر کبھی ایمان نہیں لا سکتے۔“ عمارہ بھی شامل تھا۔نبوت ملنے کے تیرہ سال بعد تک رسول اللہ مکہ میں رہے۔اور ہم آپ کو دکھ دیتے رہے حتی کہ آپ کے لئے مکہ میں رہنا ناممکن ہو گیا اور آپ اپنے صحابہ کو لے کر مدینہ ہجرت کر گئے۔جہاں کئی لوگ مسلمان ہو چکے تھے اور رسول اللہ کی حفاظت کا ذمہ لے چکے تھے۔میرا باپ رسول اللہ کی ترقی نہیں دیکھ سکتا تھا حتی کہ وہ اسی غم میں مر گیا۔جب وہ بیمار تھا تو ایک دن رو پڑا۔لوگوں نے پوچھا اے سردار! کیوں روتے ہو۔اس نے کہا ” کیا تم سمجھتے (ابن ہشام) میرا باپ ولید بن مغیرہ اپنے خاندان کا سب سے بڑا سردار تھا وہ بھلا محمد صلی اللہ علیہ ہو کہ میں موت کے ڈر سے روتا ہوں؟ واللہ ! ایسا ہر گز نہیں۔مجھے تو یہ غم ہے کہ محمد کا دین کہیں وسلم کو کیسے مان لیتا ! میرے باپ کی سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ مکہ کا سب سے بڑا آدمی تو وہ ہو پھیل نہ جائے اور محمد کا کہیں مکہ پر قبضہ نہ ہو جائے!‘ابوسفیان پاس ہی بیٹھا تھا۔اُس نے کہا اور نبوت محمد کو مل جائے! اس لئے وہ رسول اللہ کا دشمن بن گیا۔لیکن وہ چونکہ ایک شریف آدمی تھا۔اس لئے اُس نے نہ کبھی رسول اللہ کو گالیاں دیں اور نہ کبھی ہاتھا پائی کی۔رسول اللہ کے بزرگوں میں سے آپ کے چچا ابو طالب تھے۔جو رسول اللہ پر کسی دشمن کو ہاتھ نہیں اُٹھانے دیتے تھے۔ایک دفعہ قریش کے لوگ میرے ایک بھائی عمارہ کو اس بات کا غم نہ کرو جب تک ہم زندہ ہیں ایسا نہیں ہوگا۔غزوہ بدر مرتے وقت اپنے باپ کی گفتگو نے ہم پر بہت اثر کیا۔اور ہم نے رسول اللہ کے ابوطالب کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس بڑے خاندان کے بیٹے عمارہ کو اپنا بیٹا بنالو اور اپنا خلاف جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا۔رسول اللہ کو مدینہ گئے ہوئے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے