حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی

by Other Authors

Page 19 of 24

حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 19

35 34 شہر کے اندر داخل ہوگئی۔دمشق والے اس اچانک حملے کے لئے تیار نہ تھے اس لئے وہ اس خلیفہ بن گئے ہیں۔حضرت عمر نے اس میں یہ بھی لکھا میں تمہیں خالد بن ولید کی فوج کا سپہ اچانک حملے کی تاب نہ لا سکے اور اس طرح ۱۹ ؍ رجب ۱۳ ھ (بمطابق ۱۸ ستمبر ۶۳۴ء) کو سالار مقرر کرتا ہوں۔“ 66 یہ خط ابو عبیدہ کو دمشق کے محاصرے کے دوران ہی مل گیا تھا لیکن انہوں نے اس دمشق فتح ہو گیا۔تو مانے اندازہ لگایا کہ قلعے کے دوسرے دروازوں پر کوئی جنگی کا رروائی نہیں ہو رہی۔نازک صورت حال اور فوج کی میرے ساتھ والہانہ محبت کی وجہ سے دمشق فتح ہونے تک اس اس نے یہاں ایک چال چلی۔جس دروازے سے میں داخل ہوا اس کے بالکل مخالف سمت راز کو چھپائے رکھا۔میں مغربی دروازے پر ابو عبیدہ سے رابطہ قائم کیا اور انہیں حالات سے بے خبر پا کر نہایت ۳/شعبان ۱۳ھ (بمطابق ۲ /اکتوبر ۶۳۴ء ) کی صبح کو لشکر اسلام کو اکٹھا کر کے حضرت چالا کی سے دمشق کا قلعہ پر امن طور پر مسلمانوں کے حوالے کرنے اور جزیہ ادا کرنے کی ابو بکر کی وفات اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا اعلان کیا گیا۔دمشق میں مقیم لشکر اسلام نے پیشکش کی۔ابوعبیدہ نے رومیوں کے ہتھیار ڈالنے کی شرائط قبول کرلیں۔صبح ہوئی تو ابو عبیدہ ایک طرف سے اپنے لشکر کے ساتھ دمشق کے مغربی دروازے سالار کی تبدیلی کا اعلان کیا گیا۔سے امن وامان کے ساتھ شہر میں داخل ہوئے دوسری طرف سے میں تلوار کے زور سے دمشق کو فتح کرتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔شہر کے عین مرکز میں ہماری ملاقات ہوئی اور دونوں کو صحیح صورت حال کا پتہ چلا لیکن چونکہ با قاعدہ معاہدہ ہو چکا تھا اس لئے میں نے اپنا فتح کیا ہوا علاقہ بھی واپس کر دیا اور ابو عبیدہ کی شرائط کے ساتھ تو ما کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کئے۔سپہ سالار کے عہدے سے برطرفی ۲ شعبان ۱۳ھ بمطابق یکم اکتو بر ۱۳۴ء) کو میں نے حضرت ابوبکر کے نام ایک خط لکھا اس میں دمشق کی فتح اور ابو عبیدہ کی سادگی اور معاہدے کا ذکر کیا۔حضرت ابو بکر کی نماز جنازہ غائب پڑھی اور حضرت عمر کی بیعت کا اقرار کیا۔اس کے بعد سپہ کر لیا۔میں نے دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہوئے ایک عام سپاہی کے طور پر جنگیں لڑنے کا عہد حضرت ابوعبیدہ کے ماتحت میری جنگیں اس واقعہ کے جلد بعد دمشق کے قریب ابو القدس کے مقام پر حضرت ابو عبیدہ نے عبد اللہ بن جعفر" کو ایک مہم پر بھیجا انہیں رومی فوجوں نے گھیرے میں لے لیا۔ابو عبیدہ مجھے کچھ کہتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کر رہے تھے انہوں نے مجھے عبداللہ کی مدد کے لئے کہا۔میں نے عرض کیا۔واللہ اگر حضرت عمر کسی کم عمر بچے کو بھی میرا امیر بنا دیتے تو ابھی یہ خط قاصد لے کر روانہ ہونے ہی والا تھا کہ ابوعبیدہ مجھے ایک طرف لے گئے اور میں اس کی بھی اطاعت کرتا۔میں نے تو اپنی زندگی خدا کی راہ میں وقف کی ہوئی ہے۔“ بتایا کہ حضرت ابو بکر فوت ہو چکے ہیں اور حضرت عمرؓ خلیفہ ہو چکے ہیں اور انہوں نے مجھے وہ چنانچہ میں گیا اور عبداللہ اور دوسرے مسلمانوں کی جان بچائی۔خط دکھایا۔جو حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہ کے نام لکھا تھا میں نے اس میں پڑھا کہ حضرت میرے دل میں ابو عبیدہ کی بہت عزت تھی وہ ایک بزرگ انسان تھے میرے دوست ابو بکر ۲۴ / جمادی الآخر ۱۳ھ (بمطابق ۲۲ / اگست ۶۳۴ ء ) کو فوت ہوئے ہیں۔حضرت عمرؓ تھے اور ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔رسول اللہ نے ان کو ان دس خوش قسمت اصحاب