حضرت خالد بن ولید ؓ کی آپ بیتی — Page 18
33 33 32 (بمطابق ۱۹ اگست ۶۶۳۴) کولڑائی شروع ہوئی چونکہ ابھی کچھ فوج پیچھے سے آ رہی تھی اس کے وقت رومی فوجوں کو بے خبر چھوڑ کر چار ہزار سواروں کا متحرک دستہ لیکر درہ عقاب کی طرف گیا لئے میں نے رومیوں کو انفرادی لڑائی میں مصروف رکھا۔ضرار۔شرحبیل اور عبدالرحمن اور صبح تک وہاں پہنچ گیا۔جنگ جاری تھی میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا۔ایک سوار پیچھے بن ابی بکر اور کئی اور نوجوانوں نے بڑے بڑے رومی افسروں کو انفرادی لڑائی میں ہلاک سے گھوڑا دوڑاتا ہوا میرے پاس سے گزرا اس کے چہرہ پر نقاب تھا وہ گھوڑا دوڑا تا ہوا رومی کیا۔رومیوں نے مجھے انفرادی مقابلے کے لئے بلایا میرے ہاتھوں کلوس اور عزازیر لشکر میں جاتا اور حملہ کر کے تیزی سے واپس آجاتا میں اس نقاب پوش کی بہادری سے بہت دونوں گرفتار ہوئے میں نے انہیں زنجیروں سے جکڑ کر قید کر لیا۔اتنے میں باقی فوج بھی متاثر ہوا۔میں نے اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اپنا چہرہ تو دکھاؤ! اس نے کہا کہ میرا نام خولہ ابو عبیدہ اور عمرو لے کر آگئے اور باقاعدہ جنگ شروع ہوگئی۔دشمن بھاگ کر دمشق کے قلعہ ہے اور میں ضرار کی بہن ہوں اور میرا چہرہ تم نہیں دیکھ سکتے کیونکہ میں ایک مسلمان لڑکی ہوں اور پردہ کرتی ہوں۔میں ضرار اور خولہ کے بہادر خاندان سے بہت متاثر ہوا۔اس میں پناہ گزین ہو گئے۔اگلے روز ۲۰ / جمادی الاول ۱۳ ھ (بمطابق ۲۰ اگست ۶۳۴ ۶ ) کو مسلمان فوج نے دوران رومی ضرار کو گرفتار کر کے حمص کی طرف لے گئے۔میں نے ضرار کے نائب رافع کو دمشق کا محاصرہ کر لیا۔دمشق کے اندر پندرہ سولہ ہزار رومی فوج اور شہر کے باشندے اور ایک سوسواروں کے ساتھ حمص روانہ کیا۔ان سواروں میں خولہ بھی شامل تھی جو آخر کا راپنے اردگرد کے شہروں اور دیہاتوں کے لوگ پناہ گزیں تھے۔بھائی کو دشمن سے رہا کر کے لے آئی۔ہماری فوج کے مختلف دستے دمشق کے قلعہ کے باہر چھ دروازوں پر مقابلہ کے لئے ضرار واپس آ گیا۔مسلمان دستے نے دشمن پر اتنا زور ڈالا کہ وہ شکست کھا کر حمص کی موجود تھے۔مشرقی دروازہ کی طرف میں تھا۔مغرب میں ابوعبیدہ تھے۔شمال کی طرف طرف واپس بھاگ گئے اور دمشق کو کمک نہ پہنچ سکی۔شرحبیل اور عمرو اور جنوب میں یزید اپنے اپنے دستے لے کر موجود تھے۔ضرار جس نے اجنادین میں رومی سپہ سالار کے ساتھیوں کو مارا تھا دو ہزار سواروں کے متحرک دستے کے بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ساتھ رات کو قلعے کے دروازوں کے درمیان خالی حصوں پر گشت کیا کرتا تھا۔تین ہفتے گزر گئے۔میں واپس دمشق آ گیا اور محاصرہ کر لیا۔محاصرہ بڑا سخت تھا محاصرہ توڑنے کی تو مانے میں راتوں کو جاگ جاگ کر دمشق میں داخل ہونے کے منصوبےسوچتارہتا تھا۔ایک رومی قلعہ کے اندر سے مسلمانوں پر تیر اور پتھر برسا رہے تھے اور اس طرح محاصرے کو مرتبہ مجھے پتہ چلا کہ دمشق کے بڑے پادری کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے اور دمشق والوں نے اس خوشی میں رات خوب شراب پی ہے اور مست ہو کر سوئے پڑے ہیں۔میں نے اس وقت ہر قل نے دمشق والوں کے کھانے پینے کے سامان سمیت دس بارہ ہزار کی فوج حمص اندر داخل ہونے کی سکیم بنائی اور فوج کو ہدایت کی کہ جب وہ اللہ اکبر کی آواز سنیں تو فوراً شہر کے راستے روانہ کی۔میں نے ضرار کو پانچ ہزار سواروں کا دستہ دیا اور ان فوجوں کو روکنے کی فصیل کے پھاٹک پر حملہ کر دیں۔کے لئے روانہ کیا۔درہ عقاب کے پاس ضرار نے ہر قل کی فوج پر حملہ کر دیا۔ہر قل کی فوج تعداد میں چند آدمیوں کو لے کر فصیل کے اندر اترنے میں کامیاب ہو گیا۔پھاٹک کے میں بہت زیادہ تھی اس لئے انہوں نے ضرار کو گرفتار کر لیا۔مجھے اطلاع ہوئی تو میں آدھی رات محافظوں کو قتل کر کے پھاٹک کھول دیا اور اللہ اکبر کے نعرے لگائے جسے سنتے ہیں ساری فوج