سیدۃ النِّسأ حضرت خدیجۃُ الکُبرٰی ؓ — Page 17
k نظار سے دیکھتے ہیں آئے کہ اُن کے تصور سے آج بھی کلیجہ منہ کو آتا اور جگر پاش پاش ہو جاتا ہے۔حکیم ابن حزام حضرت خدیجہ کے بھتیجے تھے۔وہ کبھی کبھی اپنی پھوپھی کے لئے خفیہ خفیہ کھانا لے جاتے تھے مگر ایک دفعہ ابوجہل کو کیسی طرح اس کا علم ہو گیا تو اس بدبخت نے راستہ میں اسے بڑی سختی سے روک لیا ہے یہ ابتلاء عظیم برابر ڈھائی تین سال تک جاری رہا۔بالآخر محہ کے بعض شرفاء کی مداخلت سے یہ ظالمانہ معاہدہ ختم ہوا مگر فاقوں نے اپنا اثر دکھلایا اور تھوڑے دنوں کے بعد ہی پہلے آنحضرت کے چا ابوطالب اور پھر آپ کی وفاشعار بیوی حضرت خدیجه ان ایام کرب و بلا کے مصائب و آلام کی تاب نہ لا کر انتقال فرما گئیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُون - یه درد انگیز حادثه در رمضان نشانه نبوی کو پیش آیا جب کہ اُن کی عمر ۴ ۶ سالی ۶ ماہ تھی۔نماز جنازہ اس وقت مشروع نہیں تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشکبار آنکھوں اور غم رسیدہ دل کے ساتھ قبر میں اُترے اور اپنی چہیتی بیوی کی لاش سپرد خاک کر دی۔حضرت خدیجہ کا مدفن مکہ کے شمال میں واقع پہاڑ جون ہے۔یہ له ابن ہشام - سیرت خاتم النبنيتين ( از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب) نے طبقات ابن سعد"