حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 14 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 14

(14) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں:۔اس میں کس ایمان دار کو کلام ہے کہ حضرت امام حسین اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحب کمال اور صاحب عفت اور عصمت آئمۃ الہدی تھے۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۲۴) یعنی ھدایت کے امام تھے ھدایت کے اماموں میں سے تھے۔اور وہ بلا شبہ دونوں معنوں کی روح سے آنحضرت کی آل تھے۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۶۵) خون کے لحاظ سے بھی آل تھے اور روحانی وراثت کے لحاظ سے بھی آل تھے۔د لیکن کلام اس بات میں ہے کہ کیوں آل کی اعلی قسم کو چھوڑا گیا اور ادٹی پر فخر کیا جاتا ہے۔تعجب کہ وہ اعلیٰ قسم امام حسن اور حسین کے آل ہونے کی یا اور کسی کے آل ہونے کی جس کی روح سے وہ آنحضرت کے روحانی مال کے وارث ٹھہرتے ہیں اور بہشت کے سردار کہلاتے ہیں یہ لوگ اس کا تو کچھ ذکر نہیں کرتے اور ایک فانی رشتہ کو بار بار پیش کیا جاتا ہے۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۶۵) یہ وہ مغز ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کی محبت رکھنے والوں کے تعلق میں بیان فرمارہے ہیں کہ ان کو اس پہلو سے اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ان دونوں کا مرتبہ جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روحانی طور پر بہت اعلیٰ مراتب پر فائز فرما دیا۔وہ روحانی تعلق کی بناء پر تھا نہ کہ جسمانی رشتہ کی بناء پر۔آپ نے فرما دیا سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اُن کی اعلیٰ مراتب کی نشان دہی فرمائی اور ان کی شان میں بہت ہی پاکیزہ اور مقدس خیالات کا اظہار فرمایا۔ان کے ان اعلیٰ مراتب پر فائز تو خدا نے فرمایا تھا مگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ہم نے اس کا ذکر سنا اس لئے آپ جب کہتے ہیں کہ وہ سرداران بہشت میں سے ہے تو گویا وہ بلا شبہ اللہ کا کلام ہے جو محمد رسول اللہ