حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 12
(12) ، جو جیسا ہی دل رکھتا ہے ویسا ہی وہ محبت الہی میں پاک اور صاف کیا گیا ہے اور محبت کی آگ میں جلایا گیا ہے وہی ہے جو ان لوگوں کے حالات کو جانتا ہے۔اُن کے تجارب سے واقف ہے غیر کی آنکھ باہر سے دیکھنے والی اس کی حقیقت کو پہچان نہیں سکتی۔دنیا کی آنکھ اُن کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دنیا سے بہت دور ہیں یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی۔اب دیکھیں کیسا عظیم نکتہ ہے جو محبت اور معرفت کی نظر سے ہی دکھائی دیتا ہے یہ جلسوں میں پڑھا جانے والا نکتہ تو نہیں ہے۔فرماتے ہیں:۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔ایک سوسال کے شیعوں کے ماتم ایک طرف اور یہ فقرہ ایک طرف کیسی حقیقت کی روح پر انگلی رکھ دی ہے اُس کی شہادت کی یہی وجہ تھی کہ حسین شناخت نہیں کیا گیا۔مگر افسوس کہ جیسا وہ کل شناخت نہیں کیا گیا تھا ایسا آج بھی شناخت نہیں کیا گیا۔ورنہ حسین کے نام پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق سے نفرتوں کی تعلیم نہ دی جاتی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق حسین کا عذر رکھ کر اُن سے محبت کرنے والوں سے نفرت کی تعلیم نہ دیتے۔پس شناخت کا جہاں تک معاملہ ہے خدا کے پیارے تو بعض دفعہ تو نہ اپنے وقت میں شناخت کئے جاتے ہیں نہ بعد میں شناخت کئے جاتے ہیں۔مگر وہی اُن کو شناخت کرتا ہے جو ویسا دل رکھتا ہے ویسا مزاج اُس کو عطا ہوتا ہے ویسی فطرت ودیعت کی جاتی ہے وہی ہے جو حقیقت میں شناخت کا حق رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں :۔یہی وجہ حسین کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔دنیا نے کس پاک اور برگزیدہ سے اُس کے زمانے میں محبت کی تا حسینن سے بھی محبت کی جاتی“۔مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۵۴۵) یہاں یہ مراد نہیں کہ کوئی بھی محبت نہیں کرتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں آپ کے بڑے بڑے عشاق پیدا ہوئے ہر نبی کے وقت میں۔حضرت عیسی کے زمانہ میں بھی کچھ عشاق