حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 56 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 56

110 109 شمع تھے تم تم پہ ہم گرتے رہے پروانہ وار ماہ تھے تم اور تمہارے گرد ہم پروار تھے اک زمانہ تھا تمہارے زور پر اڑتے تھے ہم تم ہمارے بال و پر تھے اور ہم پروار تھے دشمنوں کے آڑے آتے تھے سپر ہو کر بہم شہسوار فارسی کے تیغ جوہر دار تھے تم ہی تھے داروئے درد اور تم ہی تھے تیمار دار یاد ہے روز مصیب جب کہ ہم بیمار تھے کیا کہیں کیا دل پہ گذری جب ہوئے بیمار تم کچھ نہ کر سکتے تھے ہم مجبور اور لاچار تھے درد دل سے کہیں دعا ئیں تندرستی کے لئے لب پہ اپنے ورد یا ستار یا غفار تھے تم گئے ثاقب کو بھی جلدی بلا لیجئے وہاں اپنے پہلو میں جگہ دے کر لٹا لیجے وہاں“ (الفضل ۲ / جولائی ۱۹۲۹ء ص۲) اور بھی بہت سے حضرات نے اپنے غم واندوہ کا نثر اور نظم میں اظہار فرمایا مگر اس وقت میں طوالت کے خوف سے چند ایک اقتباسات دینے پر ہی اکتفا کر رہا ہوں۔ان اقتباسات سے آپ کی سیرت کے کئی پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔مرنے والے کا جو اثر کسی انسان پر ہوتا ہے وہی اس کے جذبات کے اظہار کے وقت ظاہر ہوتا ہے اور دیکھنے والا یا پڑھنے والا ان جذبات کے اظہار سے ہی مرنے والے کی سیرت کے کئی پہلوؤں سے واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔قرار داد ہائے تعزیت: حضرت حافظ صاحب کی وفات پر جماعت کے متعدد اداروں ، آپ کے شاگردوں اور اکناف عالم میں پھیلی ہوئی جماعتوں نے ریزولیوشن پاس کئے۔صدرانجمن احمدیہ نے اپنے ریزولیوشن میں حضرت حافظ صاحب کی بے نفس اور پر جوش عالمانہ اور فاضلانہ خدمات کا اعتراف کیا اور ان کی قابل قدر تبلیغی خدمات کو باقی احمدیوں کے لئے نمونہ قرار دے کر آپ کی وفات کو بلحاظ سے آپ کے علم وفضل اور اخلاص و زہد اور محنت و جانفشانی ایک قومی صدمہ قرار دیا چنانچہ لکھا ہے۔یه مجلس حافظ روشن علی صاحب مرحوم کی بے نفس اور پر جوش عالمانہ اور فاضلانہ خدمات سلسلہ حقہ کا دلی اعتراف کرتے ہوئے ان کی وفات پر اظہار افسوس کرنی ہے اور ان کے پسماندگان اور دیگر اقرباء اور رشتہ داروں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتی ہے۔حافظ صاحب مرحوم کی تبلیغی خدمات بہت ہی قابل قدر اور دوسرے احمدیوں کے واسطے ایک قابل تقلید نمونہ تھیں۔جن کے سبب مجلس ان کی شکر گذار ہے اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرتی ہے حافظ صاحب مرحوم کی وفات بلحاظ ان کے علم وفضل اور اخلاص و زہد اور محنت و جانفشانی کے ایک قومی صدمہ ہے۔