حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 32
62 61 بعض اور دینی خدمات حضرت مفتی محمد صادق صاحب جب اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے انگلینڈ تشریف لے گئے۔تو ان کی جگہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو صدرانجمن احمد یہ کاممبر مقررفرمایا۔( الفضل ۲۹ جولائی ۱۹۱۹ء) آپ اس عہدہ پر تا وفات فائز رہے۔نیز آپ مجلس شوری کے ممبر اور عرصہ تک نائب ناظر تالیف واشاعت بھی رہے۔۱۹۱۶ء میں جماعت احمد یہ لدھیانہ نے دارالمیت کی جہاں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پہلی دفعہ بیعت لی تھی۔از سر نو مرمت کی تو اس کے افتتاح کا فخر حضرت حافظ صاحب کو نصیب ہوا۔چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے اور وہاں افتتاح کی رسم ادا کرنے کے علاوہ دو دن تک بڑی کامیابی سے لیکچر دئیے۔(ملاحظہ ہو الفضل ۱۹ / فروری ۱۹۱۶ء ) جولائی ۱۹۲۵ء میں آل مسلم پارٹیز کانفرنس امرتسر میں آپ نے شرکت کی اور وہاں آپ سب جیکٹ کمیٹی کے ممبر بھی چنے گئے۔الفضل ۱۸ جولائی ۱۹۲۵ ، ص ۱) نومبر ۱۹۲۷ء میں آپ نے ندوۃ العلماء کے جلسہ منعقدہ امرتسر میں شرکت کی۔( ملاحظہ ہوالفضل ۲۹ نومبر ۱۹۲۷ء ص۱) بہائی فتنہ کا بڑی مضبوطی سے مقابلہ کیا۔( الفضل ۱۹ / فروری ۱۹۳۸ ء ص۳) تبلیغی اور تربیتی دوروں کے علاوہ آپ نے اپنی زندگی میں متعدد انتظامی دورے کئے جلسہ سالانہ کے چندہ کے لئے بھی آپ نے دورے کئے۔مسجد لنڈن کی تعمیر کے سلسلہ میں آپ چندہ اکٹھا کرنے کے لئے متعد دشہروں میں گئے۔اور بڑے کامیاب وکامران واپس لوٹے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر انتظام سٹیج و جلسہ گاہ اور بعض اور قسم کی ڈیوٹیاں آپ کے سپرد ہوئیں۔جنہیں آپ نہایت احسن طور پر سر انجام فرماتے۔جلسہ سالانہ کے موقعہ پر تحقیق حق کرنے والوں کے سوالات اور معترضین کے اعتراضات کے جوابات دینے کا فریضہ بھی آپ کے سپر د تھا۔غرض آپ کی زندگی نہایت مصروف رنگ کی تھی۔خدمت دین کے لئے جوش : خدمت دین کا آپ کو کامل عشق تھا اور کوئی موقعہ دینی خدمت کا آپ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔مکرم مولا نا ابو العطاء صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ سیرت النبی کے جلسوں کے لئے مبلغ مقرر کئے جارہے تھے۔میں نے بطور خبر آپ کی خدمت میں بھی ذکر کر دیا تو آپ نے فرمایا۔ناظر صاحب سے کہنا کہ مجھے بھی کسی جگہ مقرر کر دیں زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔آئندہ سال شاید یہ موقعہ نہ ملے۔۔۔کسی کے سہارے کسی قریب کے شہر چلا جاؤں گا۔مجھ سے یہ بھی تو برداشت نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں جلسے ہوں اور میرا ان میں حصہ نہ ہو۔66 ( الفضل ۹ رمئی ۱۹۳۰ ء ص ۹) آخری بیماری میں جبکہ آپ موت و زندگی کی کشمکش میں تھے۔آ