حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 3 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 3

4 3 خاکسار کو ذاتی طور پر حضرت حافظ صاحب کی پاک زندگی کا مشاہدہ کرنے کا موقعہ نہیں ملا کیونکہ آپ کی وفات کے وقت میری عمر قریباً پانچ سال تھی۔لہذا خاکسار نے اس مضمون کی تیاری اور ترتیب میں جماعت احمدیہ کے موقر اخبارات، الحکم، بدر اور الفضل اور رسائل میں سے ریویو آف وو ريليجنز “ کے پرانے فائلوں سے مدد لی ہے۔خاندانی حالات کے سلسلہ میں حضرت حافظ صاحب کے قریبی رشتہ داروں محترم پیر فیض احمد صاحب کیمبل پور، مکرم کیپٹن محمد اسلم صاحب ربوہ، استاذی المحترم حافظ مبارک احمد صاحب سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ اور محترمہ استانی مریم بیگم صاحبہ بیوہ حضرت حافظ صاحب سے کافی حد تک مدد لی ہے۔نیز مکرم مولوی عبدالرحمان صاحب انور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری حضرت اقدس اور مکرم مولوی محمد حسین صاحب فاضل حال پروفیسر کلیتہ الطب جامعہ احمدیہ سے ملاقات کے دوران بعض معلومات حاصل کیں اور شجرہ نسب آپ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک نو جوان مکرم مختار احمد صاحب سے ملا ہے جو اس کتا بچہ میں شامل کر دیا گیا ہے۔بہر حال خاکسار نے اپنی طرف سے حضرت حافظ صاحب کے سوانح حیات کے سلسلہ میں تمام ضروری امور دریافت کر کے انہیں یکجائی صورت میں مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔اگر احباب اسے پسند فرما ئیں تو خاکسار کے لئے دعا کریں اور اگر اس میں کوئی کمی نظر آئے تو اس سے از راہ کرم مطلع فرما ئیں تا کہ آئندہ اس کی اصلاح کی جاسکے۔مقصودصرف یہ ہے کہ احباب جماعت اپنے جلیل القدر بزرگوں کے حالات کا علم حاصل کریں اور ان کے نیک نمونہ کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔( مولف ) خدا تعالیٰ نے صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : میں اس بات کے اظہار اور اس کے شکر کے ادا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خدا تعالیٰ کے فضل وکرم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا۔میرے ساتھ تعلق اخوت پکڑنے والے اور اس سلسلہ میں داخل ہونے والے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔محبت اور اخلاص کے رنگ سے ایک عجیب طرز پر رنگین ہیں۔نہ میں نے اپنی محنت سے بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے خاص احسان سے یہ صدق سے بھری ہوئی روحیں مجھے عطا کی ہیں۔“ (فتح اسلام ) میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ بچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجالاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کنندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیروان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ ان کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہروں پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا۔ہوں۔ہاں شاذ و نادر کے طور پر اگر کوئی اپنے فطرتی نقص کی وجہ سے صلاحیت میں کم رہا ہو تو وہ شاذ و نادر میں داخل ہیں۔“ ( الذکر الحکیم نمبر ۴ ص ۱۷)