حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 4
6 5 بسم الله الرحمن الرحیم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم حضرت حافظ روشن علی صاحب خاندانی حالات: گیارھویں صدی ہجری میں سرزمین سابق پنجاب میں توحید و رسالت کی اشاعت اور تبلیغ اسلام میں سلسلہ قادریہ کی ایک شاخ خاندان نو شاہیہ سے منسلک صوفیاء کے ایک گروہ نے نہایت شاندار کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں۔اس گروہ کے راہ نما حضرت حاجی محمد نوشہ گنج بخش قادری تھے۔جنہوں نے اپنے مریدوں پر علوم و عرفان کے راز ہائے سربستہ منکشف کر کے روحانی تصرفات سے ان کی قلبی کیفیات کو تبدیل کر دیا اور ان کے تاریک دلوں کو روشن کر دیا۔حضرت حاجی محمد نوشہ گنج بخش جالپ راجپوت خاندان کے ایک فرد تھے جو تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم کے قریباً ۳۵-۳۶ دیہات میں آباد ہے۔ان دیہات میں سے موضع نین وال کو آپ کا مولد موطن ہونے کا فخر حاصل ہوا ہے آپ کو ابتدائے عمر سے ہی عبادت کا ایک خاص ذوق نصیب ہوا تھا اور اس ذوق کی وجہ سے آپ اپنے گاؤں کو خیر باد کہہ کر نکل آئے اور چلہ کشی کے سلسلہ میں مختلف جگہوں پر عبادت بجالاتے رہے اور آخر آپ نے مستقل طور پر دریائے چناب کے کنارہ کو منتخب کیا جہاں آپ عبادت اور یا دالہی میں مشغول رہے اور چلہ کشی کا عرصہ ختم کرنے کے بعد و ہیں ایک گاؤں فتح پور میں ڈیرہ ڈال دیا اور رشد و ہدایت کا فریضہ بجالانے لگا اور قریباً ۱۰۵ سال کی عمر میں اس دنیائے فانی میں گزارنے کے بعد ۸ / ربیع الاول ۱۰۶۴ء کو اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔فتح پور گاؤں کو ہی آپ کا مدفن ہونے کا فخر حاصل ہوالیکن چند سالوں کے بعد جب دریائے چناب نے اپنا رخ اس گاؤں کی طرف پھیرا تو یہ گاؤں اس کی لہروں کی تاب نہ لا سکا اور دریا کا ایک حصہ بن گیا۔آپ کے مریدوں نے آپ کے تابوت کو فتح پور سے نکال کر قریب ہی ایک گاؤں رنمل نامی میں دفن کیا اور ہیں آپ کا مقبرہ تعمیر کیا۔ر نمل اڑھائی تین ہزار نفوس کی آبادی پر مشتمل ایک گاؤں ہے جو گجرات پھالیہ روڈ پر گجرات سے قریباً میں کوس جانب غرب اور پھالیہ سے قریباً آٹھ کوس جانب شرق واقع ہے۔سرگودھا گجرات روڈ پر واقع پولیس اسٹیشن پاہڑیانوالی سے یہ گاؤں قریباً تین میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔دور افتادہ ہونے کی وجہ سے اس گاؤں کو کوئی اہمیت حاصل نہ تھی۔لیکن حاجی محمد نوشہ گنج بخش کے مزار مبارک کی وجہ سے یہ گاؤں ہزار ہا عقیدت مندوں کا مرجع ہے اور ہر سال اساڈھ مہینہ کے نصف ثانی میں جمعرات سے جمعرات آٹھ دن تک یہاں میلہ لگتا ہے۔حضرت حاجی محمد نوش گنج بخش کے دو بیٹے تھے۔۱۔محمد برخوردار-۲- محمد ہاشم وفات کے قریب عام دنیوی رسم کے مطابق آپ نے اپنے بڑے بیٹے کو اپنا قائم مقام بنانا چاہا اور آنے والے معتقد مہمانوں کی خدمت اس کے سپرد کرنا چاہی لیکن آمدنی کے ذرائع محدود ہونے کی وجہ سے اس بوجھ کو برداشت کرنے سے اس نے انکار کر دیا لیکن چھوٹا بیٹا اس پر رضا مند ہو گیا۔