حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 62
122 121 ہے کہ خدا تعالیٰ سے انسان کی اصلاح کے لئے دو قانون بنائے ہیں۔ایک قانون قضا ہے اور دوسرا قانون شریعت- قانون شریعت انسان کو دیا گیا ہے کہ وہ اسے اپنے طور پر استعمال کرے اور قانون قضا خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے مثلاً نماز انسان کی اصلاح اور پاکیزگی کے لئے ایک اعلیٰ ذریعہ ہے۔اس کے متعلق انسان کو اختیار ہے کہ اگر وضو نہیں کر سکتا تو تیم کر کے پڑھ لے اگر کھڑا نہیں ہوسکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے اگر بیٹھ بھی نہیں سکتا تو لیٹ کر پڑھ لے۔لیکن جو انسان ان رعایتوں سے بھی فائدہ نہیں اٹھاتا۔بلکہ اپنے نفس کی رعایت کرتا ہے وہ کب پاک ہو سکتا ہے۔مگر قانون قضا خدا تعالیٰ کے اپنے ہاتھ میں ہے اس کے مطابق خدا تعالیٰ کسی کی اصلاح کے لئے جتنا ضروری سمجھتا ہے۔اسے کانٹ چھانٹ دیتا ہے تو فرمایا چالیس سال کی نماز وہ کام نہیں کرتی۔جو پانچ منٹ قضا کے حکم پر صبر کرنے سے ہوتا ہے۔اب غور کرو جس راستہ کو چالیس سال کے عرصہ میں طے کرنا ہو۔وہ پانچ منٹ میں طے ہو جائے تو کس قدرخوشی اور مسرت کا موقعہ ہوتا ہے۔“ (الفضل ۲۲/ ۱۹؍ جولائی ۱۹۱۹ء) ۴۔" حضرت مسیح موعود نے ایک دفعہ سیر میں فرمایا تھا کہ اگر حضرت مسیح کی قبر کو کھولا جائے اور آپ کی نعش نکل آئے اور ہاتھ پاؤں پر صلیب کے نشانات ملیں تو مجھے اس قدر خوشی ہو کہ اگر کوئی شخص خوشی سے مرسکتا ہو تو میں اس دن مر جاؤں۔(الفضل ۱۲ ستمبر ۱۹۲۱ء ص ۵) ۵- حضرت اقدس کی زندگی کا بچپن کا زمانہ تعلیم اور بعد کا چند سالہ زمانہ والد ماجد کے ارشاد کے مطابق سیالکوٹ میں ملازمت میں صرف ہوا۔مگر آپ کو ملا زمت وغیرہ کی طرف طبعی رغبت نہ تھی۔چونکہ آپ کے والد ، اس علاقہ کے رئیس تھے اور وہ چاہتے تھے کہ اس علاقہ کو دوبارہ حاصل کریں۔اس لئے ان کا خیال تھا کہ کسی طرح ملا زمت وغیرہ کے ذریعہ یہ مقصد حاصل کرنا چاہئے۔پس آپ کا ملازمت کرنا محض والد کے حکم کی فرمانبرداری میں تھا۔ورنہ آپ کی طبیعت کا ابتداء ہی سے یہ تقاضا تھا کہ یاد خدا میں وقت صرف کریں۔چنانچہ حضور نے سیالکوٹ سے اپنے والد کو پارسی زبان میں ایک خط لکھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ہر طرف موت کی گرم بازاری ہے اور زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔اور خدا سے غفلت بڑھ گئی ہے۔اس لئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں کہ اپنی بقیہ زندگی یا د خدا میں صرف کروں بہ کہ دریا د کسے صبح کنم شامے چند ۶۔میں نے حضرت اقدس سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں