حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 63 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 63

124 123 کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے پوچھے کہ تو کیا چاہتا ہے تو میں عرض کروں گا کہ مولا میں چاہتا ہوں کہ ایک حجرہ ہو اور تیرا خیال ہو۔مجھے تو اس نے خود پکڑ کے نکالا ہے۔“ ے۔”حضرت اقدس کے والد صاحب کا خیال تھا کہ چونکہ اس میرے لڑکے کا دنیا کی طرف خیال نہیں ہے۔اس لئے کہیں یہ بھوکا ہی نہ مرجائے۔اس لئے انہوں نے اپنے بڑے صاحبزادے کو وصیت کی تھی کہ ان کے کھانے پینے کا خیال رکھنا۔جب حضرت صاحب کے والد صاحب فوت ہوئے تو حضرت اقدس شادی شدہ تھے۔مگر آپ کو جائیداد وغیرہ کا کوئی خیال نہ تھا۔چنانچہ باوجود برابر کے حصہ دار ہونے کے حالت یہ تھی کہ آپ نے اپنے بڑے بھائی سے ایک دفعہ کھ رقم کسی کتاب کے خریدنے کے لئے مانگی تو انہوں نے کہا کہ آپ کچھ کام تو کرتے نہیں اور روپیہ مانگتے ہیں۔اس سے یہ سمجھنا چاہئے کہ آپ کو اپنی جائیداد کا علم ہی نہ تھا۔تھا مگر آپ کی اس طرف توجہ نہ تھی۔لیکن ایک دفعہ آپ کو جائیداد کا خیال آیا ہے اور اس وقت آیا ہے جب دین کے لئے اس کی ضرورت پڑی اپنی ذاتی ضرورت کے وقت نہیں آیا۔چنانچہ جب حضور نے براہین احمد یہ کتاب تائید اسلام میں لکھی تو اس کے ساتھ حضور نے انعامی اشتہار شائع فرمایا جس میں لکھا کہ اگر کوئی ان دلائل کا جواب دے تو میں اس کو اپنی دس ہزار روپیہ قیمتی جائیداد دے دوں گا۔“ مسجد مبارک جو حضرت اقدس مسیح موعود کے دار کے ساتھ ملحق ہے۔اس کا جو راستہ مہمان خانہ کی طرف سے آتا ہے اس کے آگے حضور کے چچا زاد بھائیوں نے دیوار کھینچ دی۔آپ لوگوں میں سے جو نئے ہیں اس تکلیف کا اندازہ نہیں کر سکتے۔جو اس وقت دیوار کی طرف سے حضرت اقدس اور احمدیوں کو ہوئی تھی۔چنانچہ مسجد مبارک میں آنا ضروری ہوتا تھا اس واسطے آنے والے آتے تھے۔مگر سیدھے رستہ سے بوجہ دیوار حائل ہونے کے نہیں آ سکتے تھے۔اس لئے ان کو ایک بڑا چکر کاٹ کر آنا پڑتا تھا۔یعنی حضرت خلیفہ اول کے مکان کے سامنے اور بڑ کے درخت کے نیچے سے ہو کر تمام چکر کاٹتے ہوئے مرزا سلطان احمد صاحب کے مکان کے اوپر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے مکان کے سامنے سے مسجد مبارک کے نیچے سے ہو کر پھر آنا ہوتا تھا۔مگر راستہ کی جو حالت آپ اب دیکھتے ہیں وہ نہ تھی۔بلکہ آج سے مختلف تھی۔یعنی بارش کے علاوہ دوسرے دنوں میں بھی اس راستہ میں پانی کھڑا رہتا تھا۔اور بارش میں اور زیادہ ہوتا تھا۔جس میں سے گزر کر بمشکل مسجد میں احباب پہنچتے تھے۔حضرت اقدس فرماتے