حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 50
98 97 حضرت میر محمد اسحاق صاحب جن کے ساتھ عالم جوانی سے موت تک حضرت حافظ صاحب کو کام کرنا پڑا۔درجنوں تبلیغی میں باہم اکٹھے رہے۔مناظروں اور مباحثوں میں مل کر دشمنان اسلام کا متحد ہو کر مقابلہ کیا ان سے بڑھ کر بھلا حضرت حافظ صاحب کی سیرت اور شان کو کون جان سکتا ہے۔آپ نے حضرت حافظ صاحب کی وفات کو اسلام اور احمدیت کے لئے ایک عظیم صدمہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت نورالدین اعظم کو چھوڑ کر سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم کی وفات کے بعد کوئی حادثہ حافظ صاحب مرحوم کی وفات کے حادثہ جیسا نہیں ہوا۔66 ( الفضل ۲۸ - جون ۱۹۲۹ ء ص ۷ ) حضرت مولانا ذوالفقار علی خان صاحب گو ہر حضرت حافظ صاحب کا مرثیہ کہتے ہوئے فرماتے ہیں : ” ہائے اے روشن علی اے واعظ شیر میں بیاں تیرا علم حافظ قرآنِ پاک و عالم دین متین و اتقا وہ تیرا درس دلربا وہ ترا صدق صفا - خلق میں وہ تیری تقریر دلکش دار با طرز سخن و صحبت خوش تیری ہم کو بھول سکتی ہی نہیں تیری ہر اک بات تھی راحت فزا و دلنشیں تو سراپا نور تھا اے پاکباز و پاک دل پہلوان حق تھا تو میدان علم و فضل میں تیرے دم سے آسماں رتبہ بنی تھی یہ زمیں تو ہر اک میداں میں لڑتا تھا صداقت کے لئے خدمتیں کیں دیں کی اور سچ تو یہ ہے خوب کیں تیرے علم وفضل کا دشمن کو بھی تھا اعتراف تیری عظمت ان کے دل میں ہو گئی تھی جاگزیں استقامت اور ہمت تجھ پر ہوتی تھی فدا تجھ پہ کرتی تھی شجاعت اور سعادت آفریں پاکبازی سے تری دشمن بھی حیراں تھے بہت رہتی تھی ناکام ان کی چشم ہائے عیب مبیں دل لبھاتی تھی وہ تیری صوفیانہ زندگی کان ہیں مشتاق تیری نغمہ سنجی کے بہت تیری خوش الحانیاں دنیا نہ بھولے گی کبھی تیری مداحی میں تھا رطب اللسان ہر نکتہ چیں کچھ ترنم اور بھی اے طوطی سدرہ نشیں یاد کر کے روئے گا تجھ کو ہر اک اہل یقیں سامنے آنکھوں کے لے آتا تھا بزم نور دیں ماہ رمضاں میں وہ تیرا درس قرآن مجید