حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 9 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 9

16 15 موجب بن رہا ہے۔اولاد حضرت حافظ صاحب نرینہ اولاد سے محروم رہے۔ہاں آپ کی پہلی بیوی کے بطن سے ایک لڑکی امتہ الحق صاحب (دوسال ہوئے وفات پا گئی ہیں ) پیدا ہوئیں جو استاذی المحترم جناب حافظ مبارک احمد صاحب فاضل کے نکاح میں آئیں۔(ملاحظہ ہو الفضل ۸۸/ جولائی ۱۹۲۴ء) محترم مولوی عبدالرحمان صاحب انور روایت فرماتے ہیں کہ آپ کو رؤیا کے ذریعہ مقدر اولاد کی روحانی حالت کا علم ہو چکا تھا جس کی وجہ سے آپ نے دعا کی کہ یا اللہ اگر میری اولاد نے دین کی خادم نہیں بننا تو مجھے ایسی اولا د عطا نہ فرما۔چنانچہ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی۔اولاد کا ہونا کس انسان کے لئے موجب اطمینان نہیں ہو سکتا۔لیکن دین کی خاطر اس عام فطرتی جذ بہ سے بھی کنارہ کشی کر لینا حضرت حافظ صاحب کے روحانی کمال کا ایک عجیب نمونہ ہے۔تعلیمی زمانه: : حضرت حافظ صاحب کو قادیان کے قیام کے دوران میں خوراک اور لباس کی فکر سے آپ کے بڑے بھائی حضرت ڈاکٹر رحمت علی صاحب مرحوم نے آزاد رکھا۔وہ آپ کو باقاعدہ اخراجات بھیجتے رہے۔ان کی وفات کے بعد کچھ عرصہ تک آپ کی خوراک کا انتظام لنگر خانہ میں کیا گیا۔اس طرح آپ اپنی تعلیم میں ہمہ تن مصروف رہے اور دنیا کی کوئی فکر اور تشویش آپ کی توجہ کو حصول تعلیم سے پھرا نہ سکی۔کچھ عرصہ کے بعد حضرت نواب محمد علی صاحب کو اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ایک مربی کی ضرورت پڑی اور آپ نے اس کام کے لئے حضرت حافظ صاحب کو چنا اور ساتھ ہی آپ کی پوشش و خوراک کا انتظام اپنی جیب خاص سے بصورت ماہوار گزارہ کر دیا۔حضرت حافظ صاحب جہاں آپ کے بچوں کی تربیت کے فرائض سرانجام دیتے رہے وہاں آپ نے اپنی تعلیم کو بھی جاری رکھا۔اساتذہ کرام کی رائے آپ کے متعلق: آپ کلاس میں اپنے استاد کی طرف پوری طرح متوجہ رہتے نہایت مو ڈب خلیق اور اپنے ہی کام میں منہمک رہنے والے تھے۔اس لئے آپ کے ساتھ طلباء آپ کی تعظیم کرتے۔اساتذہ کے آپ نہایت ہی فرمانبردار تھے۔اور ان کا احترام اور ادب ہر دم آپ کے پیش نظر رہتا۔حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی فرماتے ہیں : ابتدائے عمر سے حافظ صاحب فرمانبردار تھے۔اور آپ کا اتنا ادب کیا کرتے تھے کہ بہ سبب ادب اور حجاب کے بول و براز کے لئے باہر جانے کی اجازت بھی خود نہ لیتے بلکہ کسی طالب علم کے ذریعہ ہی اجازت مانگتے۔‘، نیز آپ فرماتے ہیں : " حافظ روشن علی صاحب کی مرنج مرنجاں و خاموش طبیعت - نیکی۔اپنے کام میں ہی منہمک رہنے اور