حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 8
14 13 ڈاکٹر صاحب مرحوم نے اپنے پیچھے صرف ایک لڑکی امتہ اللہ بیگم صاحبہ بطور یادگار چھوڑی جن کی شادی بعد میں جناب کیپٹن محمد اسلم صاحب سے کر دی گئی اور اس وقت آپ محلہ دارالصدر ربوہ میں مقیم ہیں۔تیسرے بھائی پیرا کبر علی صاحب بھی نہایت مخلص احمدی تھے زمیندارہ کام کرتے تھے۔بعد میں ضلع نواب شاہ (سندھ ) میں کچھ رقبہ زمین کا حاصل کر کے وہیں رہنے لگ گئے تھے۔فروری ۱۹۲۰ء میں کچھ عرصہ تک بعارضہ دق وسل بیمار رہنے کے بعد را ہی ملک عدم ہوئے آپ کی نعش کو بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن کیا گیا آپ نے ایک لڑکا اور ایک لڑکی اپنی یادگار چھوڑے ہیں۔لڑکے کا نام عبد العلی ہے جن کی کوئی اولا د نہیں ہے۔اور لڑ کی امتہ النصر صاحبہ کراچی میں ہیں۔اور مکرم با بواحمد جان صاحب سے بیا ہی ہوئی ہیں۔شادیاں : حضرت حافظ صاحب نے اپنی زندگی میں چار شادیاں کیں۔آپ کی پہلی شادی آپ کی پھوپھی کی لڑکی محترمہ حیات نو ر صاحبہ سے ہوئی جو چند سال ازدواجی زندگی گزار کر ۱۹۱۱ء میں فوت ہو گئیں اس کے بعد دوسری شادی آپ نے حضرت مسیح موعود کے ایک مخلص صحابی حضرت منشی شادی خان صاحب کی لڑکی محترمہ استانی مریم بیگم صاحبہ سے دسمبر ۱۹۱۱ء میں کی۔نکاح حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب نے پڑھا۔تیسری شادی ۵/اکتوبر-۱۹۲۰ء کو آپ نے اپنے بھائی پیرا کبر علی صاحب کی بیوہ آمنہ صاحبہ بنت پیر دولت علی صاحب سکنه پنڈ عزیز ضلع گجرات سے کی جو آپ کی پہلی بیوی کی بھیجی تھی۔نکاح حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھا۔آپ کا یہ نکاح حضرت نے آپ کے بھائی پیرا کبر علی صاحب مرحوم کی ایک وصیت کے نتیجہ میں پڑھا۔وفات کے وقت انہوں نے اپنی اس بیوی کو جواں عمر ہونے کی وجہ سے جناب حافظ صاحب سے شادی کر لینے کی وصیت کی تھی۔آپ کی یہ بیوی بھی مختصر سی ازدواجی زندگی گزار کر فوت ہو گئیں۔چوتھا نکاح آپ کا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محترم امتہ المجید صاحبہ بنت حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی سے ۱۰ ستمبر ۱۹۲۵ء کو بعوض پانصد روپیہ مہر پڑھا۔آپ کی اس بیوی نے آپ کی وفات کے بعد آپ کے بھتیجے پیر عبدالعلی صاحب سے شادی کر لی اور اب تک بفضل خدا زندہ موجود ہیں۔اسی طرح محترمہ استانی مریم بیگم صاحبہ بھی بقید حیات ہیں۔اپنی صحت کے زمانہ میں آپ لجنہ اماءاللہ کی بہترین کارکن رہی ہیں۔تربیتی مضامین پر آپ کا قلم خدا تعالیٰ کے فضل سے خوب چلتا رہا ہے اسی طرح سیرت النبی کے متعلق متعد د مضامین جن میں سے بعض الفضل کے خاص نمبروں کی زینت بنے ہیں آپ کے قلم سے نکلے ہیں۔لجنہ اماءاللہ کے اکثر اجتماعوں سے آپ خطاب کرتی رہیں۔یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ آنحتر مہ میں حضرت حافظ روشن علی صاحب کا خاص رنگ پایا جاتا ہے۔اپنے ہم جنسوں کی تربیت کی طرف متوجہ رہنا اور ان کی ایمانی اور علمی ترقی کے لئے ہر دم کوشاں رہنا ایک ایسا جذبہ ہے جو حضرت حافظ صاحب کی صحبت با برکت کا ہی اثر ہے آج کل بھی جب کہ آپ چلنے پھرنے سے قریباً معذور ہیں۔محلہ کے اکثر بچے آپ کی زیر تربیت رہتے ہیں۔اس طرح آپ کا نافع الناس وجود اب بھی لوگوں کے لئے برکت کا