حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 7 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 7

12 11 دوسرے بھائی ڈاکٹر پیر رحمت علی صاحب تھے۔جو سروس کے سلسلہ میں مشرقی افریقہ تشریف لے گئے جہاں ۱۸۹۸ء میں انہیں احمدیت قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور غالباً ۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود کی زیارت بھی کرنا موقع ملا۔باقی بھائی ان کی تحریک اور تبلیغ سے بعد میں احمدیت میں داخل ہوئے اور اس کے بعد وہاں آپ احمدیت کی مالی تبلیغی اور تنظیمی خدمات بجالاتے رہے۔۱۰ جنوری ۱۹۰۴ء کو سمالی لینڈ میں جبکہ ایک زخمی کو پٹی کر رہے تھے ایک مجروح نے بھالا مار کر آپ کو ۲۷ - ۲۸ سال کی عمر میں شہید کر دیا۔ڈاکٹر سید جلال صاحب ہاسپٹل اسٹنٹ سول ہسپتال بر بر ہ آپ کی موت کی خبر دیتے ہوئے لکھتے ہیں۔جماعت افریقہ ان کو ماں باپ کے تعلق سے بھی زیادہ عزیز جانتے تھے کیونکہ اس دور خطہ میں انہوں نے ہی ہماری احمدی جماعت کا بیج بویا یہاں پر انہی کے طفیل سے جماعت احمد یہ کھڑی ہوئی۔ان کی بردباری، حلیم مزاجی ، خشیت اللہ و زہد ہر ایک ان سے مین آدمیوں کے لئے ایک نمونہ تھی۔باوجود اتنی تکالیف لڑائی کے وہ اپنے آقا کے حکم پہنچانے اور خطوط کا جواب دینے اور اپنے خدا کے حکم بجا لانے میں کبھی طبیعت میں کسل نہ لاتے تھے۔“ الحکم، ارفروری ۱۹۰۴ ء ص ۵-۶ ) حضرت مولانا عبد الکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں : مرحوم مغفور پر لے درجہ کے متقی تھے انہیں جمعیت باطن سکینت اور ورع اس درجہ کی حاصل تھی کہ ان سے گہری واقفیت رکھنے والے ان کی ولایت کے صدق دل سے قائل تھے۔“ پھر فرماتے ہیں : ” ہمارے پیارے اور ما سوف رحمت علی صاحب نے زہد و ورع تقویٰ و طہارت اور ایمان اللہ کا وہ نمونہ دکھایا جو ہم سلسلہ احمدیہ کے بزرگ اور مشہور راست بازوں اور گذشتہ پاکبازوں کے سوا کسی مذہب اور مشرب کے برناؤ پیر میں نہیں پاتے۔ان کی پاک اور متقیانہ زندگی کا اس سے زیادہ کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ جہاں جہاں وہ رہے محض ان کے چال چلن کو دیکھ کر بہت سے لوگوں نے خدا تعالیٰ کے بچے خلیفہ مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ السلام کو شناخت کر لیا یہ بالکل صحیح اور حق بات ہے کہ رحمت علی مصفی آئینہ تھے حضرت مرسل اللہ علیہ السلام کے چہرہ مبارک کے دیدار کے لئے آخر میں لکھتے ہیں : د مغفور رحمت علی کے ہاتھ سے بہت سی جانیں اس لعنت ابدی سے بچ گئیں جو مسیح موعود مہدی علیہ السلام کے انکار اور کفر کے سبب سے نازل ہوتی ہے۔“ ( الحکم ۱۰ / فروری ۱۹۰۴ ء ص ۶)