حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 65 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 65

128 127 ۱۱ - حضرت صاحبزادہ بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : بیان کیا مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود نے جن دنوں میں ایا ارض مدقدد فاک مدمر والا قصیدہ اعجاز احمدی میں لکھا تو اسے دوبارہ پڑھنے پر باہر آ کر حضرت خلیفہ اول سے دریافت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کیا ایا بھی ندا کے لئے آتا ہے؟ عرض کیا گیا ہاں حضور بہت مشہور ہے۔فرمایا شعر میں لکھا گیا ہے۔ہمیں خیال نہیں تھا نیز حافظ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ کئی دفعہ حضور فرماتے تھے کہ بعض الفاظ خود بخود ہمارے قلم سے لکھے جاتے ہیں اور ہمیں ان کے معنے معلوم نہیں ہوتے۔حافظ صاحب کہتے ہیں کہ کئی دفعہ حضرت صاحب سے ایسا محاورہ لکھا جاتا تھا کہ جس کا عام لغت میں بھی استعمال نہ ملتا تھا۔لیکن پھر بہت تلاش سے پتہ چل جاتا تھا۔“ ( سیرت المہدی حصہ اول ص ۷۶ روایت نمبر ۱۰۲) ۱۲۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تو اس کے چند دن بعد ایک بڑا معمر شخص بھی یہاں آیا تھا۔یہ شخص حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے مریدوں میں سے تھا۔اور بیان کرتا تھا کہ میں سید صاحب مرحوم کے ساتھ حج میں ہمرکاب تھا۔اور ان کے جنگوں میں بھی ان کے ساتھ رہا تھا۔اور اپنی عمر قریباً سوا سو سال کی بتا تا تھا۔قادیان میں آ کر اس نے حضرت صاحب کی بیعت کی۔یہ شخص دیندار تہجد گزار تھا اور باوجود اس پیرانہ سالی کے بڑا مستعد تھا۔دو چار دن - کے بعد وہ قادیان سے واپس جانے لگا۔اور حضرت صاحب سے اجازت چاہی۔تو آپ نے فرمایا کہ آپ اتنی جلدی کیوں جاتے ہیں۔کچھ عرصہ اور قیام کریں۔اس نے کہا کہ حضور کے واسطے موجب تکلیف نہیں بننا چاہتا۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں ، آپ ٹھہریں ہمیں خدا کے فضل سے کوئی تکلیف نہیں ہے۔ہم سب انتظام کر سکتے ہیں۔چنانچہ وہ یہاں ڈیڑھ دو ماہ ٹھہرا۔اور پھر چلا گیا۔ایک دفعہ دوبارہ بھی وہ قادیان آیا تھا اور پھر اس کے بعد وہ فوت ہوگیا۔حافظ صاحب نے بیان کیا کہ یہ شخص چونڈہ ضلع امرتسر کا تھا۔“۔( سیرت المہدی حصہ اول ص ۱۲۳ ۱۲۲، روایت نمبر ۱۳۵) ۱۳۔بیان کیا ہم سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ ان سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم نے بیان کیا تھا کہ ایک دفعہ جب کوئی جلسہ وغیرہ کا موقعہ تھا۔اور ہم لوگ حضرت صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور مہمانوں کے