حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 64
126 125 تھے کہ اس دیوار سے ہمیں یہ تکلیف پہنچی ہے کہ ہمارے مہمانوں کو تکلیف پہنچی ہے۔اس وقت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مکان کے سامنے ڈھاب ہوتی تھی۔جواب بہت پُر ہو گئی ہے اور اکثر دفاتر مکانات و مدرسہ احمد یہ اسی ڈھاب کو پاٹ کر بنائے گئے ہیں۔حالت اس وقت یہ تھی کہ لوگ ڈھاب میں سے مٹی بھی نہیں لینے دیتے تھے اور ٹوکریاں وغیرہ چھین کر لے جاتے تھے۔مہمانوں کی تذلیل کسی مذہب میں بھی جائز نہیں۔مگر یہاں کے لوگ حضرت اقدس کے پاس آنے والے مہمانوں کی سخت تذلیل کرتے تھے۔اور جب وہ رفع حاجت کے لئے کھیتوں وغیرہ میں جاتے تھے تو یہ لوگ اس میں نہ صرف رکاوٹ ڈالتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ اٹھا کر لے جاؤ۔جب مینارہ اُسیح بننے لگا۔تا کہ خدا کا نام اس پر سے بلند کیا جائے۔تو اس کی ہندوؤں نے اس لئے مخالفت کی تھی کہ ان کے گھروں کی بے پردگی ہو گی۔حالانکہ بڑے بڑے شہروں میں بلند سے بلند عمارتیں ہیں۔مگر وہاں کوئی اس عذر سے کسی کی مخالفت نہیں کرتا۔مگر یہاں کے ہندوؤں نے اس بارے میں بڑی مخالفت کی۔کوئی احمدی مکان بناتا تھا تو گاؤں کے لوگ لاٹھیاں لے کر آ جاتے تھے کہ ہم مکان نہیں بنانے دیں گے۔یہ سلوک تھا قادیان کے لوگوں کا حضرت مسیح موعود اور آپ کے پیروؤں سے۔“ ۹ - ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا تھا کہ اگر ہم اس گورنمنٹ کے ماتحت نہ ہوتے۔بلکہ کسی مسلمان کہلانے والی سلطنت میں ہوتے تو ہمیں روز خبریں ملا کرتیں کہ آج فلاں دوست قتل ہو گیا۔اور آج فلاں مارا گیا۔“ 66 ( الفضل ۹ رجنوری ۱۹۲۲ء ص ۵ تا ۶ ) ۱۰- ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا آپ فرما رہے تھے۔اگر مخالفین کا وجود دنیا میں نہ ہوتا۔تو قرآن شریف صرف اتنا ہی ہو تالا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله - انہی کی مخالفت کا یہ نتیجہ ہے کہ انہوں نے سوالات اور اعتراضات کئے جس کی وجہ سے نئے نئے علوم اور حقائق اور معارف قرآن کریم میں بیان کئے گئے۔جس طرح کہ چقماق کو جب تک لوہے پر نہیں مارا جاتا۔آگ نہیں نکلتی۔اور جب تک بچہ روتا نہیں۔ماں کی چھاتیوں میں دودھ نہیں اترتا۔جب تک گرمی کی شدت نہ ہو۔بارش اور ٹھنڈی ہوائیں نہیں آتیں۔اسی طرح اگر مخالفین نہ ہوں۔اور وہ شکوک اور شبہات پیش نہ کریں تو نئے سے نئے علوم اور معارف بھی ظاہر نہ ہوں۔“ (الفضل ۱۳ جون ۱۹۲۵ء ص ۶)