حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 61 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 61

120 119 رحمت غفار تاریخ وفات اختر بگفت قاری علامه قابل مولوی روشن علی ١٩٢٩ء روایات : ( الفضل ۱۶؍ جولائی ۱۹۲۹ء) ۱۳۴۸ حضرت حافظ صاحب ایک لمبے عرصہ تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پاک مجالس میں حاضر ہوتے رہے اور آپ کے کلمات بابرکات سے مستفیض ہوتے رہے۔حافظہ بلا کا نصیب ہوا تھا۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے آپ نے عملی طور پر فائدہ اٹھایا۔اور ان سے جونور حاصل کیا وفات تک اس نور سے تاریک دلوں کو منور کرنے کا فرض بجالاتے رہے۔لیکن چونکہ روایات کے بارہ میں آپ کچھ زیادہ محتاط واقع ہوئے تھے۔اس لئے آپ سے زیادہ روایات مروی نہیں۔ہاں بعض روایات بعض مواقع پر آپ نے بیان فرمائی ہیں وہ یہاں درج کی جاتی ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا عمل میں نے دیکھا ہے کہ باوجود اتنی کمزوری کے کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے۔لیکن جماعت سے ہی پڑھتے تھے۔اور جب گھر پر پڑھتے تھے تو بھی جماعت کرا لیتے تھے۔میں نے اپنی بیوی کو بھیجا کہ جا کر آپ کو گھر میں نماز پڑھتے دیکھے تو اس نے بتایا کہ آپ اتنی کمزوری کے باوجود کہ آگے پیچھے تکئے رکھتے تھے۔لیکن نماز جماعت سے ہی پڑھتے تھے۔“ ( الفضل ۳۰ /جنوری ۱۹۱۶ء) ۲ - حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کسی نے باجماعت ا نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ ایاک نعبد سے تو جماعت ہی معلوم ہوتی ہے اکیلا تو ہے ہی نہیں۔“ ( الفضل ۳۰ /جنوری ۱۹۱۶ء)۔جب حضرت مسیح موعود کے صاحبزادے مبارک احمد فوت ہوئے۔تو یہ خبر سن کر میں نے اپنی بیوی کو کہا کہ حضرت اقدس کے گھر جاؤ اور دیکھو کہ آپ کے گھر میں اس وفات کا کیا اثر ہے وہ گئیں۔اور واپس آ کر انہوں نے مجھے بتایا کہ بچہ کو نہلایا جا رہا ہے اور معلوم نہیں کہ حضرت صاحب اور بیوی صاحبہ کہاں ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد بچہ کو کفن پہنا کر باہر لایا گیا۔اور چونکہ قبر کے تیار ہونے میں ابھی دی تھی۔اس لئے باغ میں حضرت مسیح موعود بیٹھ گئے۔اور حضرت خلیفہ اول کو مخاطب کر کے فرمایا۔مولوی صاحب خوشیوں اور شادیوں کے دن کبھی کبھی میسر ہوا کرتے ہیں۔پھر فرما یا مولوی صاحب ہمارے گھر میں یہ مبارک موقع کئی سال کے بعد آیا ہے۔یہ کہہ کر فرمانے لگے لوگ ایسی ہی باتوں کو دیکھ کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ لوگ مجنون ہیں مگر ہم مجنون نہیں ہوتے۔ایسے موقعہ پر ہمیں خوشی اس لئے ہوتی