حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 6
10 9 ابتدائی تعلیم اور قادیان میں آمد: حافظ صاحب کے والد جب فوت ہوئے آپ کی عمر چار پانچ سال کی تھی۔آپ کی آنکھیں دکھتی تھیں۔والد کی وفات کی وجہ سے گھر پر غم واندوہ چھایا تھا۔کسی نے ان کے علاج کی طرف توجہ نہ دی۔جس کی وجہ سے وہ زیادہ خراب ہو گئیں اور نتیجتاً آپ کی بینائی بہت کم ہو گئی۔جس کی وجہ سے وزیر آباد آ کر آپ کی تعلیم کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔بڑے بھائی نے تو گھر کی ضروریات کی وجہ سے ریلوے میں ملا زمت کر لی۔اور چھوٹے بھائی رحمت علی صاحب کو جو زیادہ تعلیم یافتہ تھے۔میڈیکل کالج میں داخل کرا دیا گیا۔اور تیسرا بھائی بھی سکول میں داخل ہو گیا۔لیکن حافظ صاحب اپنی بینائی کم ہونے کی وجہ سے سکول کی تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہے آپ کی عمر کوئی نو سال کے قریب گی کہ حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ( جو رشتہ میں آپ کے ماموں تھے ) کے مشورہ پر آپ کو ان کے پاس بھجوا دیا گیا جہاں آپ نے کوئی پندرہ سولہ سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کر لیا۔اور اس کے بعد آپ کے بڑے بھائی ڈاکٹر رحمت علی صاحب ( جو اس وقت افریقہ میں ملازم تھے ) ( کی ہدایت اور حضرت حافظ غلام رسول صاحب و زیر آبادی کے مشورہ سے آپ کو قادیان پہنچا دیا گیا۔جہاں آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوئے اور تعلیم دین کے لئے آپ حضرت قاضی امیرحسین صاحب کے سپرد کئے گئے۔پانچ سال کے قریب عرصہ تک آپ ان سال کے شاگر در ہے اور متعدد دینی کتب کے علاوہ حضرت خلیفہ اوّل کے ارشاد پر طب کی کتاب نفیسی، بھی حضرت قاضی صاحب سے درساً درسا پڑھی اور اس کے بعد حضرت خلیفہ اول نے آپ کو اپنے درس خاص میں لے لیا۔قادیان آنے سے قبل آپ اواخر ۱۸۹۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت سے مشرف ہو چکے تھے۔(ملاحظہ ہو احکم اردسمبر ۱۹۹ ص ۸) حضرت حافظ صاحب کے بھائی : حضرت حافظ صاحب ( جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے ) چار بھائی تھے۔آپ سب سے چھوٹے تھے۔سب سے بڑے بھائی پیر برکت علی صاحب تھے۔والد کی وفات کے بعد گھر کا پورا بوجھ ان کے سر پر آپڑا۔جس کی وجہ سے آپ نے تعلیم کو خیر باد کہہ کر ملازمت اختیار کر لی۔اور پھر جب سب بھائی اپنے اپنے کاروبار میں لگ گئے تو یہ دوبارہ رنمل چلے گئے۔جہاں آپ پنسار اور طب کی دوکان کرتے تھے۔اپنے گاؤں اور اس کے ملحقہ قریباً نو دیہات پر مشتمل جماعت کے سیکرٹری مال تھے۔یہ جماعت آپ کے زمانہ میں نہایت چست اور باہمت جماعت تھی جس کا سالانہ بجٹ ۱۷۸ روپے تھے۔تبلیغ کا آپ کو جنون تھا۔آپ نے متعد د تبلیغی لیکچر بھی وہاں کرائے۔حضرت حافظ صاحب کو بھی متعدد بار رنمل بلا کر ان سے میلہ پر اور دوسرے مواقع پر وعظ کرائے اور ۱۹۱۵ء میں آپ کو بلا کر رنمل میں باجماعت نماز تراویح اور درس (ملاحظہ ہو الفضل ۲۳ / جولائی ۱۵ ص۲) قرآن کا انتظام کیا۔آپ ۱۹۲۴ ء میں فوت ہوئے اور رنمل میں ہی دفن ہیں آپ نے اپنی یادگار ایک لڑکا فضل الرحمان چھوڑا ہے جو خدا تعالیٰ کے فضل سے اولاد کی نعمت سے مالا مال ہے۔