حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 5 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 5

8 7 چنا نچہ اب تک آپ کی گدی نشینی آپ کے اس بیٹے کی نسل میں چلی آ رہی ہے جو موضع رنمل میں آپ کے مزار کے قریب آباد ہے آپ کے بڑے بیٹے کی اولا د پاس ہی ایک گاؤں ساہن پال میں آباد ہے۔شجرہ نسب: حافظ روشن علی صاحب کا نسب آٹھویں پشت پر حاجی محمد نوشہ گنج بخش کے اس چھوٹے لڑکے محمد ہاشم سے جو آپ کا روحانی طور پر قائم مقام بنا جا ملتا ہے۔جس کی وجہ سے آپ کے خاندان کے لوگ ہاشمی بھی کہلاتے ہیں آپ کا شجرہ نسب یوں ہے۔حضرت حاجی محمد نوشہ گنج بخش صاحب محمد ہاشم در یا دل سلطان محمد سعید شاہ دولہ نوشہ ثانی ابراہیم شاہ حافظ سبحان علی حافظ قمر الدین حافظ سلطان عالم میاں میراں بخش حافظ روشن علی صاحب حضرت حافظ صاحب کی پیدائش: حضرت حافظ روشن علی صاحب موضع رنمل میں انیسویں صدی کے - آخر میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد میراں بخش صاحب اپنی معمولی زرعی جائیداد میں کھیتی باڑی کے ذریعہ گذر اوقات کرتے تھے۔لیکن قریباً ۳۵ سال کی عمر میں ہی ان کی وفات نے ان کی سوگوار بیوہ اور چار یتیم بچوں کی دنیا تاریک کر دی۔خاوند کی وفات کے بعد چند ماہ تک رنمل میں ٹھہر نے کے بعد حضرت حافظ صاحب کی والدہ مسماۃ بخت روشن صاحبہ آپ کو اور آپ کے بھائیوں کو ساتھ لے کر اپنے میکے وزیر آباد میں آگئیں۔جہاں ان کے والد حکیم چراغ دین صاحب نے ان سب کو اپنی پرورش میں لے لیا۔ننھیال : حضرت حافظ صاحب کے ننھیال اچھے کھاتے پیتے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے ناناحکیم چراغ دین صاحب اور ان کے بھائی حکیم مہتاب دین صاحب آخر عمر تک اکٹھے ہی رہے۔مؤخر الذکر کی کوئی اولاد نہ تھی۔لیکن دونوں بھائیوں میں بڑی محبت تھی۔اور پھر دونوں کی بیویاں حقیقی بہنیں تھیں جس کی وجہ سے حکیم مہتاب دین صاحب اور ان کی بیوی حکیم چراغ دین صاحب کے بچوں سے پدرانہ اور مادرانہ سلوک ہی کرتے تھے اور گھر کی مالی پوزیشن مشتر کہ آمد کی وجہ سے مضبوط تھی۔حضرت حافظ صاحب کے دو ماموں تھے۔ایک ڈاکٹر فضل احمد صاحب اور دوسرے مولوی نذیر احمد صاحب جو علی گڑھ کے گریجوایٹ تھے۔اور ریاست جموں وکشمیر میں اعلیٰ مناصب پر فائز رہے۔ہوم منسٹر بھی رہے۔حضرت حافظ صاحب آخری سالوں میں کشمیر کے سفروں میں انہی کے پاس قیام فرماتے رہے۔