حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 44
86 85 عنوان صداقت مسیح موعود تھا۔بعد میں علیحدہ علیحدہ طور پر چھپوا دی گئی۔(۴) اسی طرح آپ نے جلسہ سالانہ ۱۹۲۲ء کے موقعہ پر جو تقریر ” معیار صداقت انبیاء کے موضوع پر سکی وہ بھی بعد میں زیر طباعت سے آراستہ ہوئی۔( ۵ )۱۹۲۳ء میں آپ نے جلال پور چٹاں ضلع گجرات میں شیعوں سے عظیم الشان مباحثہ کیا تھا۔جو منتظمین نے اہل سنت و الجماعت جلال پور جٹاں کی طرف سے’الحق“ کے نام سے شائع کیا۔(۶) آپ نے لنڈن میں تصوف کے موضوع پر جو تقریر کی وہ سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی تقریر ( جو آپ نے بر موقعہ ویمبلے مذہبی کا نفرنس لنڈن ) کے ساتھ ” مجمع البحرین“ کے نام سے چھپی ہوئی موجود ہے۔ایک یہ چند تصانیف ہیں جن کا لائبریری میں موجود ریکارڈ سے علم ہو سکا ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی بعض مضامین علیحدہ رنگ میں شائع ہوئے ہوں۔ویسے جلسہ سالانہ کے موقع پر جو تقاریر آپ نے اپنی زندگی میں فرمائیں ان میں سے اکثر تقاریر عملہ الفضل کی طرف سے الفضل کے فائلوں میں محفوظ کر دی گئی ہیں اور تحقیق دین کا شوق رکھنے والوں کے لئے نہایت قیمتی اور دل چسپ موادان کے اندر موجود ہے۔بیماری اور وفات : حضرت حافظ صاحب کئی سالوں سے ذیا بیطس کی مرض میں مبتلا تھے۔آپ نے اس کی زیادہ پرواہ نہ کی صبح و شام علمی مشاغل میں مشغول رہے اور علاج معالجہ کی طرف زیادہ توجہ نہ کی۔نتیجہ یہ ہوا کہ بیماری کے ساتھ ساتھ دماغی محنت نے صحت پر اور برا اثر ڈالا اور اصل مرض سے زیادہ اور عوارض پیدا ہو گئے۔وفات سے کوئی دو سال قبل پیشاب میں ایلیپو من خارج ہونے لگ گئی۔اور کچھ عرصہ کے بعد اعصابی قسم کے عوارض بھی لاحق ہو گئے اور گردے میں رکاوٹ کی وجہ سے خون میں زہریلے مواد پیدا ہو گئے۔جن کی وجہ سے دل اور دماغ پر زہریلا اثر نمودار ہونے لگا۔آپ کی بصارت پر بیماری کا نہایت نا خوشگوار اثر پڑا۔ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت آپ کی دماغی مشقت کم کرائی گئی۔اور علاج کی طرف با قاعدہ توجہ کی گئی اور اس خیال سے کہ شاید تبدیلی آب و ہوا کی وجہ سے صحت پر کوئی اچھا اثر پڑ جائے۔آپ کو کشمیر بھجوایا گیا۔لیکن اس سے کوئی فائدہ پہنچنے کی بجائے بیماری میں اور زیادہ اضافہ ہو گیا دل کی حرکت تیز ہو گئی اور تنگی تنفس کے دورے پڑنے لگے۔یہ دورے ہفتہ دو ہفتہ کے بعد ہو جاتے تھے۔جامعہ احمدیہ سے جہاں بطور پروفیسر تعینات تھے۔آپ کو دفتری طور پر چھ ماہ کی رخصت دلائی گئی۔لیکن سردی کے بڑھنے کے ساتھ آپ کی تکلیف میں اضافہ ہوتا گیا۔اور ایک وقت ایسا آیا کہ بیماری تشویشناک حالت تک بڑھ گئی۔سلسلہ کے ایک جید عالم ہونے کی وجہ سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کے علاج کی طرف خاص اور ذاتی طور پر توجہ فرمائی۔اور آپ کے معالج محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے ساتھ مزید ڈاکٹروں کو بھی آپ کے علاج معالجہ پر خاص توجہ دینے کا ارشادفرمایا - چنانچہ آپ کے ارشاد کے ماتحت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب مرحوم اور ڈاکٹر سید حبیب اللہ صاحب مرحوم نے محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کے ساتھ مل کر باہمی مشورہ سے حضرت حافظ صاحب کا علاج کرنا شروع کیا۔اور ان حضرات کی