حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 34 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 34

66 65 یورپ کے سفر کے متعلق آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : ” مجھے یورپ کے سفر میں یہ عبرت ناک بات معلوم ہوئی کہ یہودی جو سب سے ذلیل سمجھے جاتے ہیں ان کے لئے یورپ کے ہر شہر اور ہر محلہ میں اپنی دکانیں ہر قسم کی ضروریات کی ہیں اور اہل یورپ اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ یہودی کیا کھاتا ہے اور کیا نہیں کھاتا۔لیکن مسلمانوں کی زندگی کا خوردنوش کے لحاظ سے نہ یورپ میں انتظام ہے اور نہ ایشیا میں اور اہل یورپ یہ نہیں جانتے کہ مسلمان کیا کھاتا ہے اور کیا نہیں کھاتا۔میرے ایک عزیز دوست نے یہ واقعہ سنایا کہ وہ اپنے ایک انگریز دوست کے گھر گیا تو اس انگریز دوست کے گھر گیا تو اس انگریز نے بہت بڑی خاطر اس کی یہ کی کہ تلا ہوا خنزیر اس کے آگے لا رکھا۔وہ کسی یہودی کے سامنے اس طریق خاطر کی جرات نہیں کر سکتا۔اس واقعہ پر میں نے اپنے دوست کو سرزنش کی کہ تم نے انگریز کو دوست بنایا مگر اس بات سے آگاہ نہ کیا کہ مسلم کیا کھاتا ہے اور کیا نہیں کھاتا۔“ الفضل ۳۰ ستمبر ۱۹۲۷ء ص ۸) حضرت حافظ صاحب نے اپنی ان سیاحتی معلومات کی بناء پر اور اپنے تجربہ کی روشنی میں اپنے طلباء کو تبلیغ کے لئے تیار کیا اور انہیں بعض ایسی ہدایات بھی دیں جو آئندہ زندگی میں ان کے کام آئیں۔مثلاً مولا نا شمس صاحب جب بلا دعر بیہ میں تشریف لے جانے لگے تو آپ نے انہیں نصیحت کی کہ : یہ ممالک بھی کا بل سے کم نہیں ہیں۔لہذا تین باتوں کا خیال رکھنا۔اول اپنے قائم مقام پیدا کرنے کی ہر وقت کوشش کرنا۔اس کے واسطے کسی اچھے شخص کو منتخب کر کے اس سے خاص دوستی کرنا کہ اگر تمہارے جسم کو روح سے علیحدہ کیا جائے تو فوراً وہ روح دوسرے جسم کے ساتھ کام کرنے لگ جائے۔“ عبادت وزہد : الفضل ۲۶ جولائی ۱۹۲۹ء ص ۲) حضرت حافظ صاحب نہایت عابد وزاہد اور قائم اللیل انسان تھے ہر مشکل وقت میں بلکہ اپنی زندگی کے ہر لمحہ میں خدا تعالیٰ کی طرف جھکے رہتے تھے۔آپ کی ساری زندگی ریاضت اور عبادت میں گزری اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر الہام و کشوف کا دروازہ کھول دیا۔آپ خود اپنی ایک تقریر میں فرماتے ہیں کہ جب میں نے اپنے خاندان کی حالت پر غور کیا اور دیکھا کہ اگر چہ ہمارے آباء واجداد محبت الہی میں فنا تھے اور دنیا سے منہ موڑ چکے تھے۔مگر اب ان کی اولا د دنیا کی طرف مائل ہو چکی ہے اور ان کی دینی حالت ابتر ہو چکی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوا۔اور اس نے اپنے الہام اور کشوف کے ذریعہ مجھ پر یہ امر کھولا کہ اس وقت حقیقی صوفی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔چنانچہ میں نے آپ کے قبول کرنے میں کوئی