حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 25
48 47 گوسر پرستی حضرت میر محمد اسحاق صاحب فاضل کے سپر دھی۔لیکن متعد د علماء اس میں لیکچر دیا کرتے تھے۔اس کلاس کا دوبارہ اجراء بعد میں بھی کیا گیا۔لیکن با قاعدہ کلاس کا ۱۹۲۰ ء میں اجراء ہوا۔جس میں مولوی فاضل طلباء کو لیا گیا۔اور اس میں کامیاب ہونے والوں کو مبلغ کے نام سے نوازا گیا۔اس کی نگرانی تربیت اور تعلیم کا کام مکمل طور پر حضرت حافظ صاحب کے ہی سپر د تھا۔اور اس غرض کے لئے کہ حضرت حافظ صاحب اپنا زیادہ وقت اس تبلیغی کلاس میں دے سکیں۔ناظر تالیف واشاعت کی طرف سے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا گیا تھا۔مبلغین تیار کرنے کے لئے حافظ روشن علی صاحب کو تالیف کے دفتر سے فارغ کر کے ایک با قاعدہ کلاس ان کے سپرد کی گئی ہے۔جس کا کورس دو سال کا ہو گا۔اور اس عرصہ میں حافظ صاحب کو دارالامان سے باہر نہ بھیجا جائے گا۔تا کہ اس کلاس کا ہرج نہ ہو۔اس لئے چاہئے کہ بیرون جات سے احباب ان کے بلوانے کے لئے کوئی درخواست نہ ارسال فرماویں۔( الفضل ۲۷ رمئی ۱۹۲۰ء ) آپ کو تبلیغ کا کس قدر شوق تھا۔اس کا اس بات سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ وفات سے چند منٹ قبل آپ نے اپنے موجود شاگردوں کو بلا کر فرمایا: ” میرے شاگرد ہمیشہ تبلیغ کرتے رہیں۔“ الفضل ۲۸ / جون ۱۹۲۹ء صفحه ۲) انسان جب دیکھتا ہے کہ اب میں اس دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں تو وہ اپنی بیوی بچوں اور عزیزوں کو ضروری نصائح کرتا ہے ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی ہدایت دیتا ہے انہیں تسلی و تشفی دیتا ہے۔لیکن حضرت حافظ صاحب کو موت کے قریب ترین وقت میں بھی اگر کسی چیز کا فکر تھا۔تو وہ تبلیغ تھی اور اس کی بڑی فکرمندانہ انداز سے اپنے شاگردوں کو نصیحت فرما رہے ہیں۔خویشوں کو تبلیغ : پھر حضرت حافظ صاحب میں ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کہ اگر چہ آپ اپنے آبائی موضع رنمل سے چھوٹی عمر میں ہی آگئے تھے اور آپ نے بچپن کا زمانہ اور پھر نو جوانی کا ابتدائی حصہ وزیر آباد میں اپنے نہال کے پاس گذارا اور پھر قادیان تشریف لے آئے اور وہیں کے ہور ہے لیکن انذر عشیرتک الاقربین کی ہدایت کے ماتحت آپ نے اپنی برادری کو بھلایا نہیں۔بلکہ جب بھی مفوضہ فرائض سے فرصت ملی۔آپ موضع رنمل پہنچ جاتے رہے۔اور اجتماعی تبلیغ کے علاوہ انفرادی طور پر بھی پیغام حق پہنچاتے رہے اور قرآن کریم کے حقائق و معارف سے بھی اپنے خاندان کے افراد کو بہرہ اندوز کرتے رہے۔تبلیغی دوروں میں آپ کا قابل تقلید نمونہ : آپ کی نظر کمزور تھی اور نہ صرف آپ کی صحت زیادہ اچھی نہیں تھی بلکہ جسم بھی فربہ تھا۔مگر اس کے باوجود آپ نے تبلیغ کے سلسلہ میں تمام ہندوستان کے طوفانی دورے کئے۔اور کبھی بھی ان سفروں کی وجہ سے کسی تکلیف کا اظہار نہ کیا۔آپ سفروں میں نہایت جفاکش تھے۔سفر میں کسی دوسرے پر اپنا بوجھ نہیں ڈالتے تھے ہاں