حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 21 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 21

40 39 پڑھنے کے آپ کے کمال حافظہ و تجر علمی کی دلیل ہے۔اس کے بعد ہر رکوع پر ایک تفسیری بیان دیتے۔“ الفضل ۲۹ مئی ۱۹۲۲ ، ص ۱۰) حضرت میر محمد اسحاق صاحب فرماتے ہیں : بیسوں دفعہ خدا کی بزرگ کتاب کا پورا درس دیا۔ہزاروں لوگ آپ کے علم سے مستفید ہونے والے ہیں۔برسوں تک ہر رمضان میں شدید گرمیوں میں روزہ رکھ کر آپ ایک پارہ کا روزانہ درس دیتے رہے۔اور وہ بھی اس طرح کہ پہلے پارہ پڑھ لیا کرتے۔پھر بلا تامل ترجمہ بیان کرتے۔پھر ضروری مطالب بیان فرماتے۔قرآن کریم کے قریباً سب سے زیادہ عالم تھے اور صرف عالم ہی نہیں۔بلکہ نہایت متقی اور باعمل عالم تھے۔“ الفضل ۲۸ / جون ۱۹۲۹ء ص ۷ ) آپ کو قرآن کریم سے کس قدر عشق تھا۔اس کے متعلق آپ کے شاگردمولانا غلام احمد صاحب بد و ملہوی کی زبان سے سنئے آپ فرماتے ہیں: آخری بیماری کے دنوں کا واقعہ ہے کہ رمضان شریف میں درس دینے کے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہ ہوا تھا اور رمضان بالکل قریب تھا آپ نے اس بات کا اظہار کیا کہ اگر امسال قرآن کریم کا درس نہ ہوا تو مجھے سخت تکلیف ہو گی۔میں نہیں چاہتا کہ حضرت خلیفہ اول کا شروع کیا ہوا یہ مبارک کام بند ہو۔اس کے متعلق کوشش کرنی چاہئے۔چنانچہ اس سے اگلے روز صبح ہی حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں خط لکھوایا۔اور جب تک آپ کو اطمینان نہیں ہو گیا۔کہ درس کا انتظام ہو گیا ہے آپ کو چین نہیں آیا اور یہ معلوم ہونے پر کہ درس کا انتظام ہو گیا ہے بڑی خوشی کے ساتھ الحمد للہ کا لفظ کہا۔اور اطمینان کا سانس لیا۔پھر فرمایا۔خدا کرے۔اور مولوی صاحب ( حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب ) کو بہت بہت توفیق دے۔کہ سارے رمضان میں سار ا درس قرآن ختم ہو جائے۔جوں جوں مولوی صاحب کا درس با قاعدہ روزانہ ایک پارہ ہوتا جاتا۔اتنا ہی آپ خوشی محسوس کرتے۔ان کے لئے دعا کرتے اور اختتام پر مولوی سید سرور شاہ صاحب کو مبارک باد دی۔“ (الفضل ۶ راگست ۱۹۲۹ء ص ۸ ) آپ علم تجوید کے ماہر اور بڑے خوش الحان قاری تھے۔آپ کی قرات سن کر کئی غیر احمدی اور غیر مسلم بھی مسحور ہو جاتے تھے اور پھر نکات قرآنیہ بتاتے ہوئے انہیں نہ صرف اپنی طرف منسوب ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ہر بات کی سند آپ اپنے بزرگ استاد حضرت خلیفۃ اصیح اول تک پہنچاتے۔اور ہر ایک قرآنی نکتہ کو آپ کی طرف منسوب کرتے۔اور اس میں بڑی راحت محسوس کرتے۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ اس سے زیادہ محسن کشی اور