حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 18
34 33 عنفوان شباب ہی سے علمی شغل کے علاوہ مجاہدات اور ریاضات بھی میرا شغل رہا ہے۔دراصل میری زندگی تحصیل علوم اور ریاضت میں گزری ہے۔مدت گزری میں نے محسوس کیا تھا کہ ہمارا سلسلہ بھی صراط مستقیم سے دور جا پڑا ہے بجائے تقویٰ و طہارت و پرہیز گاری کی زندگی بسر کرنے کے وہ لوگ اتنے گر گئے تھے کہ ان میں مشرکانہ رسمیں پیدا ہو گئی تھیں۔بجائے خداوند تعالیٰ کی محبت کے ان میں امرد پرستی آ گئی تھی۔اس طریقے کے ممتاز لوگ عبادت اور ریاضت مراقبے اور غور وخوض میں مشغول رہتے تھے۔اور ان کی زندگی دوسروں کے لئے مفید تھی۔وہ خدا اور بنی نوع انسان سے اتنی محبت کرتے تھے کہ اپنے نفس کو بھول جاتے۔لیکن اب ایک جھوٹی فراموشی نفس بھنگ اور شراب پی کر اور منوم بوٹیوں کے استعمال سے پیدا کی جاتی ہے۔۔اگلے لوگ خداوند تعالیٰ کی یاد میں بے خود ہو جاتے۔لیکن یہ لوگ مستی کی بے خودی میں درختوں اور ستونوں کے ساتھ الٹے لٹک کر شور وغل کیا کرتے ہیں۔بجائے اس کے کہ باہر نکل کر لوگوں کی بھلائی کرتے۔یہ لوگ اب آوارہ گردی کرتے ہیں۔چنگ و رباب کے ساتھ رقص و سرور میں مبتلا ہیں اس آوارہ گردی کو یہ لوگ حج اور زیارت کہتے ہیں۔بجائے محبت الہی کے ان کے دلوں میں امرد پرستی آگئی ہے۔جس کو وہ عشق مجازی کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عشق مجازی عشق حقیقی کا پیش خیمہ ہے اور بغیر اس کے عشق حقیقی حاصل نہیں ہو سکتا۔یہ باتیں بہتوں کی تباہی کا باعث ہوئیں۔تصوف کی آڑ میں وہ بہت سے گناہ کا ارتکاب کرنے لگے۔جس کا نام اخلاق پر ہیز گاری تھا۔وہ اب گر کر ان کے لئے رذالت اور عیاشی سے بدل گیا۔ان حالات میں میں خدا کی طرف متوجہ ہوا۔اور اس نے از راہ کرم بذریعہ الہام اور کشوف کے مجھ پر ظاہر کیا کہ حقیقی صوفی احمد قادیانی ہے اور چونکہ میرے مطالعہ علمی نے بھی یہی بات بتائی۔اس لئے میں نے اس امر میں کچھ بھی پس و پیش نہیں کیا کہ اپنی اہم چیزوں کو اس سر چشمہ ہدایت سے سیراب ہونے کے لئے جو احمد قادیانی کی ذات میں پھوٹ پڑا ہے قربان کر دوں میں نے اس آسمانی شراب اور آب حیات کو نہایت خلوص و عقیدت سے چکھا۔میں تمام لوگوں کو اس صداقت کی طرف دعوت دیتا ہوں جسے عشق الہی نے مجھ پر کھول دیا ہے۔مبارک وہ جو حق کی پیروی کرتے ہیں۔“ (مجمع البحرین - صفحہ آخر ) اس تقریر میں آپ نے ” تصوف اور اسلام“ کے عنوان کے ماتحت صحیح تصوف پیش کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اسلام اور ابتدائی تصوف کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کا حقیقی تعلق خداوند تعالیٰ کے ساتھ ہونا