حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 51 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 51

100 99 تیرے استادوں کو شاگردی یہ تیری ناز تھا بزم علم و فضل میں ان کا رہا تو جانشیں دہر و دلکش تھی تیری خوش بیانی اے اخی تھی تیری شیریں کلامی رشک قند انگیں دور آخر میں بھی اپنے علم و زہد وفضل سے تو نے دنیا کو دکھا دی بزم دور اولیں تو نے جو عہد وفا باندھے تھے سب پورے کئے آفریں اے مرد میدان وفا صد آفریں مرتے دم تک خدمت دینی میں تو مصروف تھا یاد تھی تبلیغ تجھ کو وقت انفاس پسیس تربیت کی تو نے مخلوق خدا کی رات دن کیوں نہ راضی اور خوش ہو تجھ پہ رب العالمین کیا ہوا اگر قبر نے آغوش اپنی بند کی کھل گئی تیرے لئے آغوش خیر المرس تیری فرقت ماتم قوی و ملی ہے مگر مومن و محسن رہا جب تک کہ دنیا میں رہا سلمين قابل صد رشک ہے یہ موت تیری بالیقیں سرخرو ہو کر گیا تو پیش خیمہ المحسنین اے زہے قسمت کہ دنیا کی کشاکش سے چھٹا تو صحبت احمد ہے، ہے، اور فردوس بریں تو ہے ہم آغوش علیش جاوداں فردوس میں دل سے اٹھتے ہیں ہمارے نالہ ہائے آتشیں ہم کو دے روشن علی جیسے ہزاروں اے خدا تا کہ طول و عرض دنیا میں ہو پھر ترویج دیں الفضل ۵/ جولائی ۱۹۲۹، ص۲) مکرم ایم عبدالمجید صاحب طالب احمدی جہلمی نے آپ کی وفات پر لکھا کہ آپ کی وفات کی وجہ سے جوصد مہ جماعت کو پہنچا ہے اس صدمہ کی وجہ سے ہم افراد جماعت ساری عمر رویا کریں گے۔چنانچہ آپ اپنے آنسو اشعار کی صورت میں یوں بہاتے ہیں : آنکھیں ہیں اشک بار تو دل سوگوار ہے ہر سانس ایک نالہ بے اختیار ہے تئیس جون کی شب غم ناک ! الاماں روشن علی سے عالم جيد جدا ہوئے غم آپ کی جدائی کا ہے دل پہ اس قدر دل چاک چاک ہو گیا صدمے سے نا گہاں چھوڑا جہاں کو راہی ملک بقا ہوئے آنسو ہیں اور ان میں ہے ڈوبی ہوئی نظر حاصل ہوا تھا آپ کو دنیا میں افتخار تھے آپ علم و فضل میں باہوش و ہوشیار