حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 40 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 40

78 77 سے بغض اور دشمنی آپ کو نہیں تھی۔ہر ایک انسان کے آپ خیر خواہ تھے۔ایک دفعہ قادیان کے بعض احباب نے قیمتیں گراں ہو جانے کی وجہ سے اشیائے ضرور یہ بٹالہ سے خریدنی شروع کر دیں۔آپ کو معلوم ہوا تو آپ نے نہایت خفگی سے فرمایا۔یہ غلطی ہے اور ان تاجروں پر ظلم ہے۔یہ ہمارے ہی آسرے پر دکانیں کھولے ہوئے ہیں۔ورنہ ان سے کون خرید نے آتا ہے۔اگر ہم نے ان سے تعاون نہ کیا اور چیزیں نہ خریدیں تو ان کو تکلیف ہوگی۔اور ان پر ظلم ہو گا۔اس تجویز و عمل کے برعکس اگر آپ لوگ ہی ان سے خریدنا شروع کریں۔تو ان کی تجارت چل جائے گی۔اور آہستہ آہستہ کم منافع پر دینے لگیں گے۔“ پابندی وقت : الفضل ۶ راگست ۱۹۲۹ ء ص ۸) وقت کے آپ بڑے پابند تھے آپ باقاعدہ گھڑی اپنے پاس رکھتے۔اور ہر کام کے موقع پر آپ گھڑی دیکھتے۔اور اپنے پروگرام سے ایک منٹ بھی ادھر ادھر نہ ہوتے۔آپ کا وقت ایک با قاعدہ پروگرام کے ماتحت صرف ہوتا تھا۔کبھی آپ نے فضول وقت ضائع نہیں کیا۔جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ آپ کو اس بات کا نہایت احساس تھا کہ انسان کے پاس وقت بہت کم ہے۔اور کام بہت زیادہ۔اس لئے اس کو زیادہ سے زیادہ وقت کام میں لگا نا چاہئے تا اس کے مفوضہ کام پورے ہوسکیں اگر وہ وقت کا ضیاع کرے گا تو وہ اپنے فرائض کو کسی صورت میں پورے طور پرا دا نہیں کر سکتا۔معاملات کی صفائی : آپ لین دین میں بہت کھرے تھے۔کسی دوکاندار کو آپ سے شکایت نہ تھی کہ آپ کی طرف سے کوئی رقم واجب الا دا زیادہ دیر سے ادا ہوئی۔بلکہ آپ خود دوکانداروں کی تنگی کے وقت ان کے کام آتے اور طلباء کو بھی آپ اس امر کی نصیحت فرماتے کہ معاملات میں صفائی نہایت ضروری ہے۔اس کے بغیر دنیا میں راحت نصیب نہیں ہو سکتی۔مرض الموت میں آپ نے اس امر کا خاص طور پر اہتمام کیا کہ کسی فرد کا چاہے وہ دوکاندار ہو یا کوئی اور قرض آپ کے ذمہ واجب الا دانہ رہے۔تنخواہ ملنے پر آپ پہلے اپنے قرض چکاتے اور پھر باقی رقم سے گھر کے اخراجات پورے کرتے۔غالباً آپ کو قریب عرصہ میں اپنی وفات کا علم ہو چکا تھا۔اس لئے آپ نے انتہائی کوشش سے قرضوں کو چکا دیا۔خود تکلیف برداشت کر لی۔لیکن پوری کوشش فرمائی کہ خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے کے وقت اس کے کسی بندہ کا قرض آپ کے ذمہ نہ ہو۔گویا یہ ایک تیاری تھی جو آپ الہی دربار میں حاضر ہونے کے لئے فرمارہے تھے۔غیرت دین: گو آپ اپنی ذات میں نہایت بردبار اور منکسر مزاج تھے۔لیکن دین کے بارہ میں سخت غیور واقع ہوئے تھے۔آپ نے تبلیغ کے سلسلہ میں ہر قسم کی بد زبانی بختی اور تکلیف برداشت کی۔لیکن جب بھی کہیں دین کے لئے غیرت کا