حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 5
6 5 آپ کے والد محترم حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کو بھی جماعت کی اعلیٰ قائد اعظم محمد علی جناح آپ پر خاص اعتماد کیا کرتے تھے اور آپ ان کے خاص خدمات کی توفیق ملتی رہی ہے۔آپ حضرت اقدس مسیح موعود کے رفیق اور جماعت رفقاء میں شامل تھے۔چنانچہ اسی بناء پر باؤنڈری کمیشن (پاکستان اور ہندوستان کی کے قدیم خدمتگار تھے۔پہلے پہل ابطور وکیل خدمت کی توفیق پاتے رہے اور جب سرحدوں کی تعیین کے لئے حکومت انگلستان کا قائم کردہ کمیشن ) کے سامنے بھی مسلمانوں کا مستقل وقف کر کے قادیان حاضر ہوئے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی اصلح الموعود نے کیس آپ کو پیش کرنے کے لئے کہا اور آپ نے کشمیر کی پاکستان میں شمولیت کی کئی آپ کو صدر انجمن احمد یہ قادیان کا پہلا ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا۔آپ نے ۱۹۲۶ء میں با را قوام متحدہ میں بہت عمدہ رنگ میں وکالت کی۔اسی لئے قائد اعظم نے قیام پاکستان وفات پائی۔۴ ستمبر ۱۹۲۶ء کوسید نا حضرت مصلح موعود نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی کے بعد مملکت پاکستان کے دو نہایت وقیع عہدے آپ کے سامنے رکھے کہ جس کو اور بہشتی مقبرہ قادیان میں خاص قطعہ ( رفقاء) میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔چاہیں قبول فرمائیں۔آپ کی والدہ محترمہ حضرت حسین بی بی صاحبہ بہت نیک، پارسا اور صاحب (۱) چیف جسٹس آف پاکستان (۲) وزیر خارجه کشف والہام بزرگ تھیں۔آپ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی چنانچہ حضرت چوہدری صاحب نے وزیر خارجہ بنا قبول کیا اور بطور وزیر خارجہ بیعت کا شرف حاصل کرنے میں اپنے خاوند محترم سے سبقت لے گئیں تھیں۔آپ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کروانے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے لئے بھی خلافت احمد یہ اور جماعت احمدیہ کے ساتھ بہت گہری وابستگی اور اخلاص و وفا کا تعلق نہایت احسن رنگ میں خدمات کی توفیق پائی۔آپ نے مسلسل سات سال یعنی رکھتی تھیں۔اسی طرح اپنے بیٹے حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کیساتھ بھی ۱۹۵۴ ء تک بطور وزیر خارجہ اپنے فرائض منصبی نہایت ایمانداری محنت اور خلوص کے گہری محبت تھی۔آپ کے متعلق تفصیل کے ساتھ ذکر حضرت چوہدری صاحب نے ساتھ ادا کئے۔اپنی کتاب ” میری والدہ " میں کیا ہے اور یہ مضمون بہت جاذب اور پڑھنے سے تعلق بطور وزیر خارجہ اپنے فرائض سے سبکدوشی کے بعد ایک اور نہایت اعلیٰ اعزاز رکھتا ہے۔آپ کے حصہ میں آیا، آپ کو ۱۹۵۴ء تا ۱۹۶۱ ء تک بطور جج اور نائب صدر عالمی عدالت حضرت چوہدری صاحب نے حضرت مصلح موعود کے ارشادات کے ماتحت انصاف ( انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس ) میں خدمات کی ادائیگی کی توفیق ملی۔۱۹۶۱ء تحریک پاکستان کے ایک سرگرم کارکن کے طور پر بھی عظیم الشان خدمات انجام دیں میں عالمی عدالت انصاف سے سبکدوشی کے بعد حکومت پاکستان نے اقوام متحدہ کے جن میں سے ایک بطور صدر آل انڈیا مسلم لیگ کام کرنے کی توفیق پاتا ہے۔دفاتر واقع نیو یارک میں آپ کو اپنا سفیر اور مستقل مندوب (نمائندہ) مقرر کیا جہاں