حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 4 of 18

حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 4

4 3 بیعت کے وقت بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہو چکے تھے لیکن ۱۹۰۷ ء میں حضرت جہد کے میدان میں ہر اندرونی تجربے کے میدان میں آپ پر یہ احساس غالب رہا کہ مولانا حکیم نورالدین صاحب خلیفہ مسیح الاول کے تحریک فرمانے پر ماہ ستمبر میں میں نے اللہ کے ایک مامور کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ہے اور جہاں تک میرا بس چلتا قادیان حاضر ہوئے اور ۶ ار ستمبر ۱۹۰۷ء کو بعد نماز ظہر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ ہے جہاں تک مجھے خدا کی طرف سے توفیق عطا ہوتی ہے میں اس کے تقاضے پورے الصلوۃ والسلام کے مقدس ہاتھ پر بیعت کی سعادت پالی۔کرتا رہوں گا اور خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ نہایت عمدگی کے ساتھ نہایت ہی اہمیت سے ان تقاضوں کو پورا کیا۔“ (خطبہ جمعہ فرموده 6 ستمبر 1985 ء بحوالہ ماہنامہ خالد صفحہ 918 دسمبر جنوری 86-1985ء) ایں سعادت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشنده تعلق اور وابستگی کا گہرا رشتہ جو آپ کا حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ سے قائم ہوا اللہ نے تعالی نے آپ کو کسی وفا اور اخلاص کے ساتھ اسے نبھانے کی توفیق بخشی گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجوایشن مکمل کرنے کے بعد آپ کے والد صاحب آئے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی زبان مبارک سے اس کا کچھ تذکرہ سنتے نے آپ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان بھجوانے کا فیصلہ کیا۔آپ نے خود بھی دعا کی اور سید نا حضرت خلیفہ امسیح الاول کو بھی دعا کی درخواست کی اور بارگاہ خلافت سے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: ایک دفعہ BBC کے نمائندہ نے انٹرویو لیتے ہوئے اچانک آپ پر سوال کیا اجازت کے بعد آپ نے یہ سفر اختیار فرمایا۔قبل از سفر حضرت خلیفتہ المسح الاول نے کہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ کیا ہے۔بے تکلف سوچنے کے لئے ذرا بھی آپ کو نہایت کارآمد اور مفید نصائح سے بھی نوازا۔تر ڈونہ کرتے ہوئے آپ نے فوراً یہ جواب دیا کہ میری زندگی کا سب سے بڑا واقعہ وہ حضرت چوہدری صاحب نے انگلستان قیام کے دوران نہ صرف قانون کی اعلیٰ تھا جب میں اپنی والدہ کے ساتھ حضرت (بانی سلسلہ احمدیہ ) کی خدمت میں حاضر تعلیم بارایٹ لاء کو اعزاز کے ساتھ مکمل کیا بلکہ پیغام حق پہنچانے کی بھی سعادت حاصل کرتے رہے۔ہوا۔آپ کے مبارک چہرے پر نظر ڈالی اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھما دیا۔اس دن کے بعد پھر وہ ہاتھ آپ نے کبھی واپس نہیں لیا۔مسلسل ہاتھ تھمائے رکھا ہے اور جو نومبر ۱۹۱۴ ء میں تکمیل تعلیم کے بعد آپ ہندوستان لوٹ آئے اور سیالکوٹ میں عظمتیں بھی آپ کو ملی ہیں اس وفا کے نتیجہ میں ملی ہیں۔اس استقلال کے نتیجہ میں ملی قانون کی پریکٹس شروع کر دی۔اس دوران بعض اہم جماعتی مقدمات میں بھی خدمت ہیں، نیکی پر صبر اختیار کرنے کے نتیجہ میں ملی ہیں، ہمیشہ اپنے آپ کو حضرت ( بانی سلسلہ کی توفیق پائی۔تھوڑے ہی عرصہ بعد لاہور تشریف لے آئے اور وہاں قانون کی پریکٹس احمدیہ ) کے تابع فرمان کے طور پر زندہ رکھا۔ہر میدان میں، ہر علم کے میدان ہر جدو کے ساتھ ساتھ ایک لمبا عرصہ بطور امیر جماعت احمد یہ لا ہور خدمت کی توفیق پائی۔