حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ

by Other Authors

Page 3 of 18

حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 3

2 1 وجود بہت سارے ایسے اعزازات کا حامل ہوا جن میں اسے انفرادیت اور خاص امتیاز حاصل ہے۔حضرت سر چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب مثلاً آپ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ نامزد کئے گئے اور مسلسل سات سال تک اس عہدہ پر فائز رہنے والے واحد وجود بھی تھے، عالمی عدالت انصاف کے پہلے پاکستانی بیج ، نائب صدر اور پاکر صدر، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پہلے پاکستانی ۶ فروری ۱۸۹۳ء کو ضلع سیالکوٹ پاکستان کے ایک قصبہ ڈسکہ میں ایک معزز صدر، پہلے فرد جنہوں نے عالمی عدالت انصاف اور اقوام متحدہ دونوں کی سربراہی کا زمیندار خاندان کے ایک گھرانہ میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام ظفر اللہ خاں رکھا گیا۔اعزاز حاصل کیا۔اس کے علاوہ بھی ان گنت اعزاز اس شخص کے سینے پر سجے اس کے والد حضرت چوہدری نصر اللہ خاں ایک قابل وکیل تھے اور ایک صاحب علم اور دراصل یہ وجود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کئی الہامات کا خدا ترس آدمی تھے اور والدہ حضرت حسین بی بی صاحبہ ایک نیک اور پاکباز خاتون مصداق مظہر ا اور آپ کی کئی پیشگوئیوں کا ظہور اس کی ذات میں ہوا۔تو یقینا آپ جان تھیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بحیثیت امام مہدی ظہور ہو چکا گئے ہوں گے کہ یہ وجود دنیائے احمدیت کے بطل جلیل حضرت چوہدری سر محمد تھا۔چنانچہ اور بہت سے سعید فطرت لوگوں کی طرح اس گھرانہ کو بھی نور نبوت کو ظفر اللہ خاں صاحب ہیں۔پہنچانے کی توفیق ملی اور دونوں میاں بیوی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم شہر سیالکوٹ سے کے رفیق بننے کی سعادت پاگئے۔ان کے ہاں پیدا ہونے والا یہ بچہ جس کا ابھی ذکر کیا حاصل کی اور میٹرک کے بعد لاہور چلے آئے۔یہاں گورنمنٹ کالج لاہور جیسے بلند پایہ جا چکا ہے بچپن میں کافی لمبا عرصہ آشوب چشم (آنکھوں کی ایک تکلیف دہ بیماری) کی معتبہ علمی درسگاہ سے انٹر میڈیٹ اور پھر گریجوایشن مکمل کی۔اسی دوران ایک عظیم الشان سے بیمار رہا جس کی وجہ سے اس بات کا گمان بھی محال تھا کہ یہ عملی زندگی میں کوئی شرف جو آپ کو حاصل ہوا وہ یہ تھا کہ گو آپ ۳ رستمبر ۱۹۰۴ء کو حضرت اقدس مسیح موعود کامیاب وجود بن سکے گا۔لیکن اس کے بزرگ والدین کی دعائیں اور ان سے بھی علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کا شرف دوران لیکھر لاہور حاصل کر چکے تھے اور اسی بڑھ کر سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپکے مقدس خلفاء کی دن سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے دعا ئیں اس وجود کے حق میں دربار الہی میں کچھ اس طرح شرف قبولیت پاگئیں کہ وہ د عادی پر مکمل ایمان رکھنے والا سمجھتے تھے اور بعد میں اپنی والدہ محترمہ اور والد محترم کی