حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب ؓ — Page 13
22 21 ماہ جون ۱۹۸۲ ء میں جماعت احمدیہ کو جب اپنے محبوب امام سید نا حضرت خلیفہ یکم ستمبر ۱۹۸۵ ء کو احمدیت کا یہ بطل جلیل، سرزمین پاکستان کا نامور سپوت، کئی المسیح الثالث کی رحلت کا قیامت خیز دن دیکھنا پڑا تو اس موقع پر مجلس انتخاب خلافت نشانات کا مورد اور کئی الہامات کا مصداق عظیم الشان وجود۹۲ سال کی نفع رساں عمر کے اجلاس میں حضرت چوہدری صاحب نے بھی بفضل اللہ شمولیت کی اور پھر جب پا کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔حسب منشائے الہی سید نا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع آپ کا لمبی عمر پانا بھی اس ارشاد خداوندی کی تصدیق اور اس کی عظمت کا ثبوت منتخب ہوئے تو مجلس انتخاب کی بیعت لینے سے قبل حضور نے سب سے پہلے حضرت چوہدری صاحب کو رفقاء حضرت مسیح موعود کی نمائندگی میں اپنا ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھنے کا ارشاد اپنی اس خواہش کی تکمیل میں فرمایا کہ "سب سے پہلے بیعت کرنے والا تو وہ ہو ٹھہر جاتا ہے۔(سورۃ الرعد آیت نمبر ۱۸) جس نے حضرت اقدس مسیح موعود کے مبارک ہاتھوں کو چھوا ہوا ہو۔چنانچہ حضرت چوہدری صاحب کو یہ عظیم الشان خوش نصیبی اور سعادت بھی میسر آگئی۔ہے کہ اور جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے تو وہ زمین میں چنانچہ آپ جیسے نفع رساں اور مفید وجود کو اللہ تعالیٰ نے لمبی عمر سے نوازا۔کئی قوموں بلکہ ایک دنیا نے آپ سے استفادہ کیا اور برکت پائی۔یقیناً بین الاقوامی آپ کی مالی قربانی اور دیگر نیکیاں آپ کے لئے صدقہ جاریہ کی صورت میں ۶ نومبر ۱۹۸۳ء میں انگلستان سے مستقل پاکستان واپسی کے بعد آپ کا زیادہ تر شہرت کی حامل آپ کی شخصیت ایک بہت ہی نافع الناس جود ثابت ہوئی۔قیام اپنی کوٹھی واقع خورشید عالم روڈ شمالی چھاؤنی لاہور میں رہا۔اس عرصہ میں آپ کو ضعف اور نقاہت بہت ہوگئی تھی لیکن ان ایام میں بھی نماز با جماعت کا بہت انشاء اللہ ہمیشہ آپ کے اجر میں اضافہ کرتی چلی جائیں گی۔سید نا حضرت خلیفہ پابندی کے ساتھ التزام فرماتے رہے۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع سے بہت عشق اور امسیح الرائع نے آپ کی وفات پر آپ کا جو ذکر خیر فرمایا اس کی کچھ جھلکیاں محبت کا تعلق تھا۔آپ کی سیرت اور حالات بیان کرتے ہوئے کثرت سے آپ کے مندرجہ ذیل ہیں۔قریبی عزیزوں نے جو اپنے مشاہدات بیان کئے ہیں ان میں اس بات کا ذکر کیا ہے " آپ کے حق میں حضرت (بانی سلسلہ احمدیہ ) کی وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو کہ اکثر شدید بیماری میں بھی حضور کے بارہ میں دریافت فرمایا کرتے۔حضور کی بار بار اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی اور اس بار بار عطا ہونے میں بھی ایک کثرت کا خیریت کے بارہ میں دریافت کرتے اور اپنی دعاؤں میں بکثرت حضرت امام نشان تھا جو آپ کو دیا گیا فرماتے ہیں: جماعت اور جماعت احمدیہ کے لئے دعائیں کیا کرتے۔” خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے کہ وہ مجھے بہت عظمت دے گا اور میری