حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓ — Page 3
3 2 تقدیر الہی کا نتیجہ تھا یہ وہی نوجوان تھا کہ جس کے والد محترم نے اسے بچپن میں قادیان بعد ان تعلیم حاصل کرنے کے لئے اس نیت سے بھیجا تھا کہ بڑا ہو کر کوئی دین کا کام کرے اور ستمبر ۱۹۰۷ء میں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کے سامنے وقف زندگی کی پر زور تحریک فرمائی تو اس آواز پر لبیک کہنے والوں میں دوسرے نمبر پر اسی نوجوان کا نام تھا اور اس کے نام کے سامنے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا تھا "منظور۔حضرت خلیفہ امسح الاول نے بخوشی اس نوجوان کا وقف قبول فرمایا اور فوری انگلستان جانے کی ہدیت فرمائی۔اس وقت جماعت کے پاس اتنے مالی وسائل نہ تھے کہ ایک مربی کو انگلستان بھجوانے کا انتظام کر سکے۔لیکن اس حوصلہ مند نوجوان نے مصمم ارادہ کر لیا کہ پیارے آقا کی آواز پر لبیک کہا ہے تو اسے اب عملی جامہ بھی بینا کر رہنا ہے چنانچہ کسی قسم کے مطالبہ کے بغیر یہ نوجوان لندن جانے کی تیاری کرنے لگا۔روانگی سے قبل جب ملاقات کے لئے حضور انور کی خدمت میں حاضر ہوا اور روانگی کی اجازت طلب کی تو حضرت خلیفہ امسیح الاول نے دریافت فرمایا کہ کرائے کا کیا انتظام کیا ہے؟ یہ نو جوان ابھی خاموش ہی تھے کہ حضور کی خدمت میں یک خادم رقعہ اور ایک رومال میں بندھی کچھ رقم لا یا۔یہ پانچ سو اور کچھ روپے تھے جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے بھجوائے تھے۔حضور نے یہ رقم آپ کو عنایت فرمائی۔مجلس میں چرچا ہو گیا کہ پہلا مربی پانچ سو روپے لے کر لندن جا رہا ہے۔ایک سو پانچ روپے حضرت میر ناصر نواب صاحب نے دیئے اور بعض لوگوں نے ایک ایک دو دو روپے دیئے چنانچہ یہ پہلا مربی احمدیت 780 روپے کی قلیل رقم لے کر اپنے مشن پر روانہ ہوا۔نہ کوئی نئے کپڑے خریدے نہ کچھ اور۔صرف ڈیڑھ صد روپے کی کتب خریدیں اور ایک لمبے سفر پر روانہ ہو گیا۔جولائی 1913ء میں وہ لندن پہنچا جہاں دراصل اس کے زمانہ طالبعلمی کا دیکھا ہوا خواب پورا ہونا مقصود تھا جس میں اس نے دیکھا تھا کہ وہ یورپ میں دینِ حق کا پیغام پہنچائیں گے۔پیارے ساتھیو! یہ نوجوان حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال تھے۔آپ کے والد محترم کا نام حضرت چوہدری نظام الدین صاحب تھا جن کا آبائی وطن جوڑا کلاں تحصیل قصور ہے اور آپ وہاں کے بہت بڑے زمیندار تھے۔1884ء میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ ملی اور 1899ء میں آپ بیعت کر کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خدام میں شامل ہو گئے۔آپ ایک پر جوش داعی الی اللہ تھے۔29 مارچ 1942ء کو بعمر 85 سال آپ اپنے مولی حقیقی سے جاملے۔