سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 8
12 11 ہیں جو اماں جان نے اپنی بیٹی حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کو سنایا۔فرمانے لگیں کہ ” جب میں پہلی مرتبہ نئی نئی آئی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کی ایک بات کا مجھ پر بہت اثر ہوا اور وہ یہ کہ خادمہ دُودھ ابال رہی تھی۔جب دُودھ میں جوش آرہا تھا تو اس نے ڈھکن اُتار دیا۔اتفاق سے حضرت اقدس کی نظر پڑ گئی اور آپ نے فرمایا ”دودھ نگا ہے یہ ضرور پھٹ جائے گا۔میرے دل میں خیال آیا کہ دُودھ کے اہال کے وقت ڈھکن اُتار ہی دیتے ہیں۔یہ دُودھ بھلا کیوں پھٹے گا۔مردوں کو کچھ خبر نہیں ہوتی اس لیے ایسا کہہ دیتے ہیں۔میرے دل میں یہ خیال گزر ہی رہا تھا کہ اُسی وقت دُودھ پھٹ گیا۔اس واقعہ سے میرے دل میں حضرت اقدس کا بہت رُعب طاری ہوا اور میں نے یقین کر لیا کہ یہ تو بہت بڑے بزرگ ہیں۔“ حضور کی وفات کے بعد اماں جان بالکل بدل گئیں، آپ کا سکون اور اطمینان جاتا رہا۔اس کی جگہ گھبراہٹ اور بے چینی نے لے لی۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے آپ کی زندگی کے بارہ میں لکھا کہ: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد آپ میں ایک بہت بڑی تبدیلی پیدا ہوئی۔پھر میں نے آپ کو پُرسکون اور مطمئن اور خاموش نہیں دیکھا۔ہم بچوں کی وجہ سے بہت صبر دکھاتیں لیکن طبیعت میں بے حد گھبراہٹ اور بے قراری پیدا ہوگئی تھی جو پھر کبھی نہ گئی۔یوں لگتا تھا جیسے آپ اس دنیا میں ہیں بھی اور نہیں بھی۔آپ ایسے بے چین رہتیں جیسے آپ کا کچھ کھو گیا ہو۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے حضرت اماں جان کی غیر معمولی محبت کے بارے میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بلھتی ہیں کہ : ”آپ اکثر سفر پر جاتی تھیں اور بظاہر اپنے آپ کو بہت بہلائے رکھتیں۔عورتوں کو ساتھ لے کر باغ کی یا گاؤں کی سیر کو نکل جاتیں۔گھر میں کچھ نہ کچھ کام کرواتی رہتیں۔کھانا پکواتیں اور اکثر غریبوں میں تقسیم کرتیں (یہ کام آپ کو سب سے زیادہ پسند تھا )۔لوگوں کا آنا جانا رہتا۔اپنی اولاد کی دلچسپیاں تھیں۔یہ سب کچھ تھا مگر حضور کے بعد پورا سکون آپ نے کبھی محسوس نہیں کیا۔صاف معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی اپنا وقت کاٹ رہا ہے۔ایک سفر ہے جسے طے کرنا ہے۔کچھ کام ہیں جو جلد ہی کرنے ہیں۔ظاہر میں ایک صبر کی چٹان تھیں لیکن ایک قسم کی گھبراہٹ تھی جو آپ پر ہر وقت طاری رہتی لیکن بچوں کی خاطر اپنا یہ غم چھپائے رکھتیں اور سب کی خوشی کا سامان کرتی تھیں۔جب کوئی بچہ خاندان میں پیدا ہوتا تو خوشی کے ساتھ حضرت اقدس کی جدائی کا غم بھی تازہ ہو جاتا اور آپ اس بچہ کی آمد پر حضرت اقدس کو بہت یاد کرتیں۔میں اپنے لیے ہی دیکھتی کہ حضرت صاحب کی وفات کے بعد ایک محبت کا چشمہ ہے جو اماں جان کے دل میں پھوٹ پڑا ہے اور بار بار فرمایا کرتیں کہ تمہارے ابا تمہاری ہر بات مان لیا کرتے اور میرے اعتراض کرنے پر فرماتے کہ لڑکیاں تو چار دن کی مہمان ہوتی ہیں یہ کیا یاد کرے گی۔جو یہ کہتی ہے وہی کرو۔“ غرض یہ محبت بھی حضرت صاحب کی محبت تھی جو آپ کے دل میں موجود تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بے حد خواہش تھی کہ آپ حج کریں لیکن حالات کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔حضرت اماں جان نے آپ کی وفات کے بعد آپ کی اس خواہش کو یاد رکھا اور اس طرح پورا کیا کہ ایک صاحب کو اپنے پاس سے رقم دے کر حضرت اقدس کی