سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 9
14 13 طرف سے حج کرنے بھیجا۔آپ کی عادت تھی کہ جب حضرت صاحب کی یاد آتی قرآن شریف پڑھنا شروع کر دیتیں۔آپ اور بھی کئی طرح سے حضرت اقدس کی یاد میں زندہ رکھتیں۔آپ کا یہ طریقہ تھا کہ روزانہ صبح بہشتی مقبرہ جا کر حضرت اقدس کے مزار پر دعا کیا کرتیں۔حضور کو جو کھانے پسند تھے وہ پکوا کر یا خود پکا کر لوگوں کوکھلا تیں اور فرما تھیں:۔کھاؤ! یہ حضرت صاحب کو بہت پسند تھا۔“ حضرت اماں جان کو قادیان سے بھی بہت محبت تھی۔جب پاکستان بننے کے بعد حضرت مصلح موعود مستقل طور پر ربوہ تشریف لے آئے تو ساتھ محترمہ آپا آمنہ صاحبہ ( بیگم چو ہدری عبداللہ خان صاحب ) بھی اماں جان کے ساتھ تھیں۔وہ کہتی ہیں کہ جس مکان میں ہم نے کھانا کھایا حضرت اماں جان اس کے برآمدے میں تشریف رکھتی تھیں۔میں جا کر پاس بیٹھ گئی۔باتوں باتوں میں کچھ ایسا فقرہ میں نے کہا جس کا مطلب تھار بوہ قادیان جیسا لگتا ہے۔یہ قادیان کا غم دور کر دے گا۔حضرت اماں جان میرے پاس لیٹی ہوئی تھیں۔جوش میں اٹھ کر بیٹھ گئیں۔میرے کندھے کو ذرا جھٹک کر رنج سے بولیں:۔تم اُس جگہ کو بھول جاؤ گی جہاں حضور ) دفن ہیں۔“ ایک بار حضرت اماں جان مکرم عبداللہ صاحب کے گھر نیلا گنبد لا ہور تشریف لے گویا آپ کو وہ مکان جن میں کبھی حضور تشریف لے گئے تھے ، وہ را ہیں جن پر آپ کے قدم مبارک پڑے تھے ان سب سے محبت تھی اور آپ انہیں برکتوں والا خیال کرتیں۔حضرت اماں جان کی ہر بات ، ہر کام یہ ظاہر کرتا تھا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کتنی محبت اور عقیدت تھی۔آپ کے رفقاء اور کچے پیار کرنے والے خادموں اور ان کی اولاد سے بھی بہت محبت رکھتی تھیں اور ان کی معمولی معمولی باتوں کا بھی خیال رکھتیں جیسے ایک ماں اپنے بچوں کا رکھتی ہے۔یہاں ہم آپ کو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کائنا یا ہوا ایک واقعہ بتاتے ہیں جس سے حضرت اماں جان کے ایمان کی مضبوطی کا پتہ چلتا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا سے علم پا کر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو حضور نے دیکھا کہ حضرت اماں جان علیحدگی میں نماز پڑھ کر رو رو کر دعا کر رہی ہیں۔بعد میں آپ نے پوچھا کہ کیا دعا کر رہی تھیں؟ حضرت اماں جان نے جواب میں بتایا کہ میں یہ کہہ رہی تھی ”خدایا ! تو اس پیشگوئی کو اپنے فضل اور قدرت سے پورا فرما “ آپ نے فرمایا! کہ ” تم یہ دعا کر رہی تھیں اور تم جانتی ہو کہ اس کے نتیجے میں تم پر سوکن آنی ہے۔حضرت اماں جان نے بے ساختہ فرمایا ” خواہ کچھ ہو مجھے اپنی تکلیف کی پرواہ نہیں۔میری خوشی اسی میں ہے کہ خدا کی بات اور آپ کی پیشگوئی پوری ہو۔“ سوتیلے رشتہ داروں سے سلوک گئیں۔ان کے گھر والوں نے آپ سے کہا کہ یہ گھر بہت تنگ ہے آپ دعا کریں اللہ تعالیٰ ہمیں بہتر مکان عطا کرے۔یہ سُن کر حضرت اماں جان نے فرمایا: دو نہیں یہ مکان تمہارے لیے بڑا برکت والا ہے کیونکہ یہاں (حضور) تشریف لا چکے ہیں۔اس مکان کو نہ چھوڑنا۔“ جب آپ شادی کے بعد قادیان آئیں تو وہاں سب رشتہ داروں کو حضور کے خلاف دیکھا یہاں تک کہ جو چند خادم تھے ان کے خلاف بھی گھر والوں نے بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔حضور کا تعلق اپنی پہلی بیوی سے ان کے سلوک کی وجہ سے نہ ہونے کے برابر تھا اور آپ کوئی