سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 6 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 6

7 نہیں یہ تو بہت مزیدار ہیں۔میری پسند کے مطابق پکے ہیں۔ایسے ہی زیادہ گڑ والے تو مجھے پسند ہیں۔یہ تو بہت ہی اچھے ہیں۔اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کو اتنی باتیں کیں کہ میرا دل بھی خوش ہو گیا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اماں جان کو خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان سمجھتے تھے اور جو بات بھی وہ کرنے کو کہتیں پوری کوشش فرماتے کہ وہ پوری ہو جائے۔ویسے بھی آپ فرمایا کرتے تھے کہ بیویوں کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔حضور کی مہربانیوں کی ایک مثال آپ کو سناؤں۔ایک دفعہ دار مسیح کے اس حصہ میں جہاں حضور رہتے تھے وہاں ایک صحن ہے جس کی ایک کھڑ کی جنوب کی طرف محلہ کوچہ بندی میں کھلتی ہے۔گرمیوں میں رات کو حضور اور آپ کے سب گھر والے اس صحن میں سویا کرتے تھے لیکن برسات کے موسم میں جب بارش ہوتی تو مشکل یہ پڑ جاتی کہ ساری چارپائیاں اُٹھا کر کمروں میں لے جانی پڑتیں۔اس واسطے حضرت اماں جان نے یہ مشورہ دیا کہ اس صحن کے ایک حصہ پر چھت ڈال دی جائے۔یعنی برآمدہ سا بنادیا جائے تا کہ بارش ہونے پر چار پائیاں اس کے اندر کی جاسکیں۔حضور نے حکم فرما دیا کہ ایسا ہی کیا جائے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور چند دوسرے رفقاء نے اعتراض کیا کہ ایسانہ کریں صحن کی شکل خراب ہو جائے گی، خوبصورتی ختم ہو جائے گی لیکن آپ نے سب کی باتیں سُن کر فرمایا کہ ٹھیک ہے لیکن چونکہ میری بیوی خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے اور میرے ان بیٹوں کی ماں ہے جن کے متعلق خدا نے مجھے بشارتیں دی ہیں اس لیے میں اس کی ہر بات مانتا ہوں۔یہ برآمدہ بنا چاہیے۔حضرت اماں جان خودا اپنا ایک واقعہ سنا یا کرتی تھیں کہ جب وہ نئی نئی قادیان آئیں تو انہیں روشنی میں سونے کی عادت تھی۔جب آپ سو جاتیں تو حضور روشنی بجھا دیتے۔پھر آپ کی آنکھ کھلتی تو آپ اندھیرا دیکھ کر گھبرا اُٹھتیں اور حضرت صاحب دوبارہ روشنی کر دیتے۔آخر حضور کو ہی روشنی میں سونے کی عادت پڑ گئی۔پھر تو یوں ہوا کہ گھر کے ہر کونے میں روشنی رہنے لگی ، سیڑھیاں کیا، غسل خانہ کیا، کمرہ کیا صحن کیا ، سب جگہ روشنی کی جاتی اور اس کے لیے ایک خاص خادم رکھا گیا۔کبھی کبھا رحضرت اماں جان محبت سے حضور کو یاد دلایا کرتیں که آپ کو وہ وقت یاد ہے جب آپ روشنی میں سونہ سکتے تھے اور آب گھر کے کونے کونے میں روشنی نہ ہو تو آپ کو نیند نہیں آتی۔“ حضرت صاحب یہ بات سُن کر ہمیشہ خوشی سے مُسکرا اُٹھتے۔بچو! حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان کو جتنے لوگوں نے بھی قریب سے دیکھا۔مثلاً حضرت اماں جان کے دونوں بھائی۔آپ کی اولاد، بہوئیں اور خادمائیں وغیرہ سب کا یہ کہنا ہے کہ یہ دونوں عام میاں بیوی کی طرح نہ تھے۔آپ دونوں میں کبھی آپس میں جھگڑا نہ ہوتا۔کسی بات پر لڑائی نہ ہوتی۔اُدھر حضور حضرت اماں جان کی ہر بات مانتے اور پیار اور احسان کا سلوک کرتے تو ادھر حضرت اماں جان بھی حضور کی چھوٹی سے چھوٹی پسند نا پسند کا خیال رکھتیں۔کھانا بھی اکثر خود پکا تیں یا پھر سامنے بیٹھ کر اپنی نگرانی میں پکواتیں۔آپ کے دوسرے کاموں میں بھی اس طرح آپ کا ہاتھ بٹاتیں جیسے کوئی دوست اپنے دوست کا کام کر رہا ہے۔حضور حضرت اماں جان کو تم کہہ کر بلاتے اور اردو زبان جو کہ اماں جان کی زبان تھی اس میں باتیں کرتے۔کبھی کبھی پنجابی بھی بول لیا کرتے۔حضرت اماں جان بھی آپ کو عزت سے حضور یا حضرت صاحب کہ کر بلایا کرتیں۔غرض یہ جوڑا بے مثال تھا اور آپس کی