سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 27 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 27

50 49 اس میں حال پوچھنا اور بیماروں کی تیمارداری کرنا وغیرہ سب شامل ہوتا ہے۔کہیں بچوں کا علاج کرتی ہیں کہیں بڑوں کی طبیعت پوچھتی ہیں۔کسی جگہ دوا بتا تیں ہیں کہیں خود تیار کر کے دیتی ہیں۔اور اس علاج معالجے میں۔۔ان کی اچھی مہارت ہے۔دس گیارہ بجے تک فارغ ہو کر گھر پہنچ جاتی ہیں۔دو پہر کے کھانے کے بعد آرام کرتیں ہیں۔عصر کی نماز تک گھر میں بہو بیٹوں سے ملتی ہیں۔شام کو پھر سیر کے لیے نکل جاتی ہیں۔اس پروگرام پر تقریباً روزانہ عمل کرتی ہیں۔اس وقت ان کی عمر 54 سال ہے، مگر ارادہ میں جوان ہیں۔اپنے عزم میں جوان ہیں عمل میں جوان ہیں۔ایک بارعب کمانڈر کی طرح قادیان کی آبادی پر اثر ہے۔جس طرح خلوص اور محبت سے ملتی ہیں اسی طرح رعب اور اثر سے کام لیتی ہیں۔ان کاموں میں ان کو دلچسپی ہے اور ان کو ہی اپنا مشغلہ بنارکھا ہے جس طرح خاندان کوان کی ضرورت ہے۔قوم اور مذہب کا لحاظ کیے بغیر ہر ایک سے حسن سلوک کے ساتھ ملتی ہیں۔جو کچھ ممکن ہوتا ہے اس کی خدمت کرتی ہیں۔اطمینان اور دلاسہ دیتی ہیں۔“ غرض آپ بہت بلند اخلاق کی مالک تھیں۔پیارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ اور سنت اور حدیث پر پورے طریقہ پر چلنے والی تھیں۔آپ کا یہ اعلیٰ نمونہ جماعت نے دیکھا اور آپ سے محبت کی اور محبت پائی۔آپ جماعت کے لیے حقیقی ماں سے بھی بڑھ کر تھیں۔آپ کی وفات دو جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ساری جماعت اس طرح تڑپ تڑپ کر اور بلک بلک کر خدا کے حضور دعائیں مانگ رہی تھی جیسے کوئی اپنی سگی ماں کے لیے مانگ رہا ہو، لیکن خدا کی تقدیر آن پہنچی تھی، اُس کا بلاوا آ گیا تھا۔25 دن کی بیماری کاٹ کر 20 اپریل 1952 ء کو آپ اپنے مولائے حقیقی سے جاملیں۔آپ قادیان سے ہی ایک لٹھے کا تھان اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک کرتہ ساتھ لائی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ یہ میں نے اپنے کفن کے لیے رکھا ہوا ہے۔چنانچہ آپ کو پہلے وہ متبرک کرتہ اور پھر وہی کفن پہنایا گیا اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں آپ کی تدفین ہوئی۔حضرت مصلح موعود نے آپ کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :- اس سال احمدیت کی تاریخ کا ایک بہت ہی اہم واقعہ ہوا اور وہ ہے حضرت اماں جان کی وفات۔ان کا وجود ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کے درمیان کی ایک زنجیر کی طرح تھا۔۔۔وہ ہمارے اور حضرت (مسیح موعود علیہ السلام) کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھیں یہ واسطہ ان کی وفات سے ختم ہو گیا۔“ اور حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے آپ کی وفات کے بعد ایک مضمون میں لکھا: - صرف اس لیے نہیں کہ اماں جان بہت زیادہ محبت کرنے والی ماں تھیں اور اس لیے نہیں کہ آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں تو ان کا ذکر خیر ہونا چاہیے اور اس لیے بھی نہیں کہ مجھے ان سے بہت محبت تھی بلکہ یہ حق اور صرف حق ہے کہ حضرت اماں جان کو اللہ تعالیٰ نے سچ سچ اس قابل بنایا تھا کہ وہ ان کو اپنے