سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 20 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 20

36 35 طرح لے چلو۔وہ کوئی چھ سات سال کی ہوگی۔اسے لے کر قادیان آئیں اور سیدھی ضرورت مندوں کی مدد لڑکیوں کے اس سکول میں پہنچیں جو اس وقت دار امیج میں ہی لگتا تھا۔اس بچی کا حلیہ اتنا خوفناک تھا کہ وہاں کی سب لڑکیاں اسے دیکھ کر ڈر گئیں اور چیچنیں مار کر ادھر ادھر بھاگیں۔اماں جان ان کی حالت دیکھ کر ہنس پڑیں اور فرمایا ” یہ ایک یتیم لاوارث بچی ہے۔اسے تم نے ہی انسان بنانا ہے اس کا نام تیمی ہے۔پھر خود ہی جا کر فینائل، کنگھا، تیل، کپڑوں کا جوڑا قیمتی، جوتی وغیرہ لے کر آئیں اور استانی میمونہ صاحبہ سے کہہ کر اسے نہلایا دھلوایا۔صاف کپڑے پہنوائے۔کنگھی چوٹی کروائی ، پھر اسے کھانا کھلایا۔کچھ دنوں میں یہ بچی اماں جان کی توجہ اور خدا کے فضل سے حیوان سے انسان بن گئی۔تیسرے چوتھے دن اماں جان اسے خود نہلاتیں ، جوئیں نکالتیں کنگھی چوٹی کرتیں۔جیسے وہ ان کی ہی ہو۔بچوں میں رہتے رہتے اسے اتنی عقل آگئی کہ وہ گھر کا کام کاج بھی کرنے لگ گئی۔جب جوان ہوئی تو اماں جان نے اسے اپنے ہاتھوں سے بیاہ دیا۔خادموں سے حسن سلوک اپنے خادموں سے بہت اچھا سلوک کرتیں اور ان کے آرام اور کھانے پینے کا بہت خیال رکھتیں۔دکھ تکلیف میں ان کے کام آتیں۔ایک دفعہ کسی عورت نے عرض کی کہ فلاں ملازمہ کہتی ہے روٹی تھوڑی ملتی ہے۔آپ نے باورچی خانہ سے اس کا کھانا منگوایا اور اس میں اور سالن ڈال دیا۔دو اور روٹیاں منگوا کر اس کی روٹی میں شامل کر دیں اور اپنے تولیے میں لپیٹ کر رکھ لیں اور فرمایا ” وہ بچوں والی ہے اُسے روٹی کم نہ دیا کرو۔“ اور جب وہ ملازمہ آئی تو اس کا دل خوش کرنے کے لیے فرمایا ”دیکھو میں نے تمہاری روٹیاں اپنے تولیے میں لپیٹ کر رکھ دی ہیں تا کہ کم نہ ہوں۔“ مکرم عبدالرحیم صاحب شر ما اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں:۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب نے اپنی کوٹھی کا ایک کوارٹر ہمیں رہنے کے لیے دے دیا۔اس وقت گھر کے پانچ افراد تھے اور تنخواہ بہت کم ، گذارہ مشکل سے ہوتا تھا۔جب حضرت اماں جان کو ہماری تنگی کا پتہ چلا اور یہ کہ سارا گھر صرف 1/2 سیر دودھ پر گزارہ کرتا ہے تو آپ کو بے حد رحم آیا اور اپنی ایک گائے ہمیں بھیج دی۔وہ گائے اچھی نسل کی تھی۔سات آٹھ سیر دودھ دیتی تھی۔اس گائے کا گھر میں آنا تھا کہ ایسی برکت ہوئی کہ کچھ دن میں ہی ہمارے حالات بدل گئے۔“ اپنے کام خود ہاتھ سے کرنا حضرت اماں جان میں بے حد محنت کی عادت تھی۔چھوٹے سے چھوٹا کام بھی خود اپنے ہاتھ سے کرنا پسند کرتی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بتایا کرتے کہ میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے کئی بار کھانا پکاتے ، چرخہ کاتے، نواڑ بنتے بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ ڈالتے دیکھا ہے۔بعض دفعہ خود بھنگیوں کے سر پر کھڑے ہوکر صفائی کرواتی تھیں اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔قادیان سے آکر بھی باوجود کمزوری کے اپنے اکثر کام خود کرتیں۔بکسوں میں سے چیزیں خود نکالتیں اور رکھتی۔کوئی ہنڈیا چڑھا دیتا تو بیٹھ کر خود چمچہ ہلانے لگتیں۔سہارا لینا بالکل پسند نہ کرتیں۔کوئی دینا چاہتا بھی تو فرماتیں میں خود چلوں گی ،سہارا نہ دو۔“ 66