سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 19
34 33 33 اولاد سے آپ کی محبت کا حال، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اس طرح بیان کرتی ہیں کہ: " آپ بہترین ماں تھیں۔آپ کا سینہ مامتا کے جذبات اور پیار سے بھرا ہوا تھا۔آخر عمر تک بچوں کی چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھتی رہیں۔حضرت مصلح موعود کو بچپن میں میٹھے تاروں کے گولے جنہیں پنجاب میں ”مائی بڑھی دا جھاتا کہتے ہیں بہت پسند تھے۔وہ جب بھی کسی بچے کو کھاتے دیکھتیں پیسے دے کر فوراً منگوا لیتیں اور فرماتیں جاؤ میاں محمود کو دے آؤ، انہیں بہت پسند ہے۔اس طرح ہر وقت ان کے کھانے پینے کا خیال رہتا۔اسی طرح کوئی چیز اگر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کہ پسند کی پکی ہے تو کہتیں یہ میرے ”بشری“ کو پسند ہے کوئی جا کر اسے دے آؤ۔اپنی آخری بیماری کے دنوں میں جب اکثر غنودگی کی حالت رہتی اس وقت بھی بچوں کا خیال رہتا۔ایک دن حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو مرزا شریف احمد صاحب سمجھیں جو اس وقت بیماری کی وجہ سے لا ہور تھے۔مجھے آہستہ سے کہنے لگیں شریف کو چائے پلوا دو کہیں سر میں درد نہ ہو جائے۔حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ اپنے میاں کی وفات کے بعد میں نے اماں جان سے اتنی محبت پائی کہ مجھے اپنا غم بھول گیا۔ایسے معلوم ہوتا تھا کہ جیسے میں دوبارہ ماں کی گود میں واپس آگئی ہوں۔جب نئی نئی تقسیم ملک ہوئی اور قادیان سے لاہور آئے تو کسی کی بھی مالی حالت اچھی نہ تھی۔ایک بار میں بازار گئی۔ایک کپڑا بے حد پسند آیا، لیکن لے نہ سکی۔واپس آکر باتوں باتوں میں اماں جان سے ذکر ہوا تو بولیں کس دکان پر دیکھا تھا؟ کیا رنگ تھا؟“ کہنے کو عام سی باتیں ہو رہی تھیں لیکن اگلے دن کیا دیکھتی ہوں کہ وہی قمیض کا ٹکڑا اتہاں جان لے کر آرہی ہیں کہ ”لو پکڑو اور سلوا کر پہنو کل سے مجھے نیند نہیں آئی کہ میری بچی دل مار کر خالی ہاتھ واپس آگئی۔غرض حضرت اماں جان کو اپنی اولاد کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کا خیال رہتا اور اولاد کی تکلیف اپنی تکلیف سمجھتیں۔یتیموں کا خیال یوں تو ہر یتیم کا خیال رکھتیں لیکن خاص طور پر جن بیتیم لڑکیوں کو آپ نے پالا ان۔نہایت محبت اور پیار کا سلوک کیا۔ان کی اپنے بچوں کی طرح تربیت کی۔آپ انہیں خود نہلاتیں، سر میں دہی لگاتیں ، تیل ڈالتیں تا کہ سر میں خشکی نہ ہو جائے۔اور یہ کام کرتے ہوئے آپ کے چہرے پر خوشی ہوتی۔جب بچی سمجھنے کے قابل ہو جاتی تو اسے سب سے پہلے کلمہ پھر نماز ترجمے سے سکھاتیں۔ابتدائی دینی تعلیم خود دیتیں۔پھر کسی استانی کو مقرر کر کے قرآن شریف ختم کروا تیں۔کھانا پکانا، سلائی کڑھائی سکھا تھیں۔آمنہ نیک محمد صاحبہ کو بھی آپ نے ہی پالا اور یہ سب باتیں سکھائیں۔سکول بھی بھیجا تا کہ دنیوی تعلیم بھی حاصل کرلیں۔پھر ان سے چھوٹی چھوٹی کہانیوں کی کتابیں سنتیں تا کہ اردو صحیح طریقہ پر بولنا آجائے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں سنتیں اور مطلب سمجھاتیں۔تربیت بھی کرتیں۔ساتھ ہی چھوٹی چھوٹی خوشی کا خیال بھی رکھتیں پھر ان لڑکیوں کی خود ہی شادی کی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت اماں جان کسی چھوٹے گاؤں کی طرف سیر کو نکلیں۔ساتھ میں دو خادما ئیں امام بی اور مائی فجو بھی تھیں۔جب آپ گاؤں کی ایک گلی میں سے گزریں تو دیکھا کہ گندی چیتھڑوں میں لپٹی ایک لڑکی پڑی ہے اور خربوزوں کے گندے چھلکے منہ میں ڈال رہی ہے۔آپ نے اس کے پاس ٹھہر کر پوچھا یہ کون ہے؟‘ گاؤں کے چندلوگوں نے بتایا کہ یتیم ہے اور گونگی بہری ہے۔آپ نے ایک خادمہ کو حکم دیا کہ اسے اسی وو