سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 2 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 2

دیباچه بچو! گھر خالی دیکھ کر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ابا تمہارے لیے کچھ نہیں چھوڑ گئے۔انہوں نے آسمان پر تمہارے لیے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔“ یہ فقرات حضرت اماں جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے موقع پر اپنے بچوں سے مخاطب ہو کر فرمائے۔یہ فقرات جہاں آپ کے خدا تعالیٰ پر کامل تو کل کی آئینہ داری کرتے ہیں۔وہاں اپنے شوہر کے مقام ومرتبہ پر پختہ یقین کا عنوان بھی ہیں۔آپ جامع خوبیوں کی مالک تھیں۔انتہائی نیک ، تقوی شعار ، دعا گو اور اعلیٰ اخلاق آپ کا طرہ امتیاز تھا۔آپ کی سیرت صرف ہماری خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ ہمارے بچوں اور نو جوانوں کے لیے بھی اسوہ ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم خود اس پر عمل کرنے والے بہنیں اور اپنے بچوں اور بچیوں میں بھی اس کو منتقل کرنے والے ہوں۔آمین پیش لفظ حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زوجہ محترمہ جو ایک مبارک نسل کی ماں بنیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کی بدولت آپ کے تمام ماننے والوں کی ماں کہلائیں۔حضرت اماں جان کی سیرت و سوانح پر مشتمل یہ کتاب صاحبزادی امتہ الشکور صاحبہ بنت حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفہ اسیح الثالث نے تصنیف فرمائی۔اس کتاب کی اہمیت اس پہلو سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ اس کے ابتدائی مسودہ کے بعض حصوں کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث اور حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے بھی ملاحظہ فرمایا۔