سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 18 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 18

32 31 جان کی ملازمہ سردار سے کہانیاں سُن رہے تھے۔عرفانی صاحب کی بیوی کو دیکھ کر سردار نے کہا ”میاں اب ان سے سنو خیر انہوں نے بھی ایک کہانی سنائی جو میاں محمود کو بہت پسند آئی۔اگلے روز جب وہ حضرت اماں جان کے پاس گئیں تو میاں محمود انہیں دیکھ کر آگئے اور حضرت اماں جان کی گود میں بیٹھ کر بولے ”اماں جان محمود کی اماں آگئیں تم ان کو کہو کہانی سنائیں اور بار بار زور دینے لگے۔آخر حضرت اماں جان بولیں۔”بہ تمہیں خیال نہیں آتا میرا بچہ کہانی سنے کو کہ رہا ہے۔وہ بولیں ”اماں جان ! دن کو کہانی اچھی لگے گی۔“ آپ نے فرمایا ! نہیں۔بس ہم دن کو ہی سنیں گے۔“ جب وہ کہانی سنا رہی تھی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی تشریف لے آئے اور پوچھا ”یہ کیا کہہ رہی ہیں۔“ حضرت اماں جان نے بتایا کہ کہانی سنا رہی ہیں۔آپ نے فرمایا۔”ہاں ہاں سناؤ ، بچوں کو کہانیاں سنانے سے عقل بڑھتی ہے۔“ حضرت اماں جان بچوں کے ہلکے پھلکے مذاق کا برا نہ مناتی تھیں، نہ ہی چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ کرتی تھیں۔ایک دفعہ حضرت اماں جان کے پاس چار بچیاں آئیں۔آپ اٹھیں اور ان کے لیے چلغوزے لے کر آئیں۔ان میں جو سب سے چھوٹی بچی تھی وہ شریر تھی۔وہ اپنی بڑی بہن سے بولی۔دیکھو طاہرہ! چلغوزے مت کھانا ورنہ اماں جان تمہیں ندیدہ سمجھیں گی۔حضرت اماں جان اس کی یہ بات سن کر خوب ہنسیں اور بولیں میں بالکل تمہیں ندیدہ نہیں سمجھوں گی خوب بے تکلف ہو کر کھاؤ۔عزیز رشتہ داروں اور اولاد سے محبت آپ کو اپنے تمام رشتہ داروں سے بہت محبت تھی۔خاص طور پر اپنے بھائیوں اور اولاد کو بہت چاہتی تھیں۔اپنی بہوؤں سے بیٹیوں کی طرح پیار کرتیں اور ان کا خیال رکھتیں۔سب کی ضرورتوں کا خیال رکھتیں۔رشتہ داروں کی دعوت کرنا ، پھر سب کو پسند کا کھانا پکا کر کھلا نا تو آپ کی خاص عادت تھی۔ہر عید پر سب آپ کے مہمان ہوتے۔آخر عمر تک سب کی دعوت کرتی رہیں۔بلکہ بالکل آخر میں جب طبیعت کافی کمزور ہوگئی تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو بلا کر فرمایا: ”میاں ! میری طبیعت کافی کمزور ہے۔میرا دل کرتا ہے کہ کوئی رقم مجھ سے لے کر خاندان کی دعوت کا انتظام کر دے۔اب خود میرے سے ہوتا نہیں۔“ چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے خود سارا انتظام کروا دیا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب بتاتے تھے کہ حضرت اماں جان کو اپنے بھائیوں کی تکلیف کا بہت احساس ہوتا تھا۔جب مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے احباب نے میری خواہش کے مطابق ڈاکٹری پڑھنے کا ہی مشورہ دیا تو مالی پریشانی کی وجہ سے میں مشکل میں پڑ گیا اور میں مایوس ہو گیا کہ اب میرا داخلہ نہیں ہوسکتا۔جب حضرت اماں جان کو پتہ چلا تو فورا بولیں ”تم شوق سے پڑھنے جاؤ۔میں اپنے ذاتی خرچ میں سے تمہیں رقم دوں گی۔کسی کو پتہ نہ چلے گا۔“ یہ بات آپ نے اس لیے کی کہ میر صاحب کی غیرت کو چوٹ نہ لگے اور اس طرح خدا کے فضل سے میر صاحب اپنے وقت کے بہت بڑے اور اچھے سر جن بن گئے۔بہوؤں کے ساتھ سلوک کے متعلق آپ کی بڑی بہو حضرت ام ناصر صاحبہ نے بتایا کہ جب میری شادی ہوئی میں گیارہ سال کی تھی۔پہلے دن حضرت اماں جان نے مجھے اپنے ساتھ سلایا کہ بچی ہے اُداس ہو جائے گی۔اور بعد میں بھی مجھے اتنا پیار دیا اور میرا خیال رکھا۔وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آپ کی محبت بڑھتی ہی گئی یہاں تک کہ میں اپنا میکہ بھول گئی۔جیسے ایک ماں کی گود سے نکل کر دوسری ماں کی پیار بھری گود میں خدا نے مجھے بھیج دیا۔