سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 15 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 15

26 25 سے حدیث پڑھوا کر سنا کرتیں۔وفات کے قریب بیماری میں یہ شوق اس قدر بڑھ گیا تھا کہ سنانے والا تھک جاتالیکن آپ کی پیاس نہ بجھتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کرتیں۔ایک مرتبہ ایک آدمی نے باغ کا پھل جبکہ ابھی آموں کو بور ہی لگا تھا، چھ سوروپے میں خریدنے کے لیے منشی صاحب کی معرفت کہلا بھیجا۔حضرت اماں جان نے جواب میں انکار کر دیا کہ یہ تو نا جائز ہے۔جب باغ کو پھل لگ گیا تو وہ بہت کم قیمت میں بکا۔اس آدمی نے منشی صاحب سے کہا کہ چھ سوروپے لے لیتے تو اچھا تھا۔اب دیکھو کتنے کم روپے ملے ہیں۔اس پر منشی صاحب نے جواب دیا:- 66 اماں جان اس کو نا جائز سمجھتی ہیں ایسے روپے کیسے لے لیتا “ قیدیوں کو کھانا کھلانا بھی سنت ہے۔اس لیے ایک دفعہ جب حضرت اماں جان بٹالہ تشریف لے گئیں تو آپ نے ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب سے کہا کہ پتہ کریں کہ یہاں جیل کے قیدیوں کو ہماری طرف سے عمدہ کھانا کھلانے کی اجازت مل سکتی ہے؟ انہوں نے اپنے کسی واقف کے ذریعہ اجازت حاصل کی اور حضرت اماں جان نے پچاس روپے انہیں کھانا تیار کرنے کے لیے دیے اور اس طرح قیدیوں کو عمدہ کھانا کھلایا گیا ( یہ شاید وہ قیدی تھے جو قرض کی وجہ سے قید میں تھے۔) قدرتِ ثانیہ سے گہرا تعلق قدرت ثانیہ پر آپ کا دل سے ایمان تھا۔امامِ وقت کی اطاعت کرنا اور ان کا ہر حکم ماننا اپنا فرض سمجھتی تھیں۔قدرت ثانیہ کے مظہر اول حضرت مولانا نورالدین صاحب نے اس بات کی گواہی دی اور فرمایا:- ”جو اطاعت میری میاں محمود اور حضرت اماں جان نے کی ہے کسی نے بھی نہیں کی۔“ ایک بار کسی کو بتایا کہ:- وو " حضرت بیوی صاحبہ ( یعنی حضرت اماں جان) نے جو کہ میرے ایسے حالات سے واقف ہیں ایک بار کچھ نقد روپیہ مجھے دیا اور کہا یہ آپ کے کھانے کے لیے ہے۔ساتھ ہی کچھ رقم لنگر خانہ کے لیے دی اور کہا لیکن دوسرے حصے میں سے نہ دیں۔“ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو امام وقت کے ساتھ کتنی عقیدت تھی۔امام جماعت احمدیہ حضرت مولانا نورالدین صاحب آپ کو جو کوئی کام کہتے آپ وہ خود کر دیتیں۔ایک دفعہ کا واقعہ ہے حضور کے پاس کچھ لڑ کے پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ان میں ایک دیہاتی بھی تھا۔ایک دن وہ کھانے پر رو پڑا۔پوچھنے پر پتہ چلا کہ اسے کسی کی عادت ہے جو اسے ملتی نہیں۔حضور نے حضرت اماں جان کو کہلوایا کہ یہ قصہ ہوا ہے۔آپ اپنے گھر سے کسی بھیج دیا کریں۔چنانچہ آپ روزانہ اس طالب علم کونسی بھجوا دیا کرتیں۔ایک بار کچھ لحاف قابل مرمت تھے۔حضور نے صوفی غلام محمد صاحب امرتسری سے فرمایا۔یہ حضرت اماں جان کو بھجوا دیں۔یہ سن کر انہیں بہت رنج ہوا کہ حضرت اماں جان سے ایسے کام کروائے جارہے ہیں۔ان کی جو بُری سی شکل بنی دیکھی تو حضرت صاحب سمجھ گئے اور فرمایا: 66 ”انہوں نے مجھے کہا ہوا ہے کہ میں ان کو کام بتادیا کروں۔“ حضرت اماں جان نے اپنے ہاتھ سے لحاف مرمت کر کے بھجوادیے۔ایک بار حضور نے آپ سے فرمایا کہ آپ اپنی غیر احمدی رشتہ دار عورتوں سے تعلق پیدا کریں اور مشورہ دیا