سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 14 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 14

24 23 کر داخلے کے دروازے تک ایک رسی باندھ کر اس پر پر دے لٹکائے ہوئے تھے اور ان پر دوں کے پیچھے اپنا پلنگ لگایا ہوا تھا تا کہ بیت الدعا میں آنے جانے والے لوگ آرام سے جاسکیں اور بے پردگی یا تکلیف نہ ہو۔جماعت میں سے جو کوئی بھی بیت الدعا جانا چاہتا آپ بڑی خوشی سے اس کی اجازت دے دیتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کمرہ میں نفل پڑھتے اور دعائیں کیا کرتے۔اس لیے اس کا نام ”بیت الدعا“ رکھا گیا۔ایک بار ایک خاتون آئیں اور بیت الدعا میں نماز پڑھنے کی اجازت چاہی۔آپ نے ہنس کر فرمایا:- ”ہم نے کوئی ٹیکس نہیں لگایا ہوا۔“ پھر جب وہ خاتون کمرے میں داخل ہونے لگیں تو فرمایا : - ”ہاں ایک ٹیکس ہے کہ میرے لیے دعا کرنا۔“ ایک بار مہاشہ محمد عمر صاحب (مربی) مولوی فاضل کا امتحان دینے سے پہلے بیت الدعا میں دعا کرنے کی غرض سے آئے۔حضرت اماں جان سے اجازت مانگی۔آپ نے کہا آٹھ اور نو کے درمیان آجانا۔وہ کہتے ہیں میں وقت پر حاضر ہو گیا۔دروازہ کھٹکھٹایا۔ایک ملازمہ نکلی۔پوچھنے پر بتایا کہ حضرت اماں جان کی اجازت سے بیت الدعا میں دعا کرنے حاضر ہوا ہوں۔خادمہ نے کہا۔” بعض خواتین کو اماں جان نے وہاں کھانے پر بلایا ہوا ہے آپ کل صبح آجائیں۔میں نے کہا۔آپ اتماں جان سے عرض کر دیں کہ میں آج ہی امتحان دینے جا رہا ہوں۔اس پر وہ خادمہ اندر چلی گئی اور واپس نہ آئی۔آخر پھر دروازہ کھٹکھٹایا تو مائی کا کو صاحبہ باہر آئیں۔میں نے ساری بات ان سے عرض کی۔میری بات سن کروہ اندر چلی گئیں اور تھوڑی ہی دیر میں آکر بتایا کہ حضرت اماں جان نے فرمایا ہے:۔”ہم نے دعوت کا وقت ساڑھے نو بجے کر دیا ہے آپ آب دُعا کے لیے اندر جاسکتے ہیں۔“ اس طرح آپ ہر ایک کی خواہش کو پورا کرتی تھیں۔آپ اکثر یہ دعا ئیں بلند آواز میں پڑھا کرتی تھیں:۔سُبْحَنَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَنَ اللَّهِ الْعَظِيمِ يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْتُ يَارَبِّي وَرَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔جب قادیان سے ہجرت کر کے آئے تو آپ یہ دعا بھی بہت پڑھتی تھیں :- يَا حَفِيظٌ يَا عَزِيزُ يَارَفِيقُ رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنَا وَانْصُرْنَا وَارْحَمْنَا۔ہم بچوں کو بھی یہ دعا سکھا دی تھی اور فرمایا کرتی تھیں کہ یہ دعا بہت پڑھا کرو۔یہ اس زمانہ کا اسم اعظم ہے یعنی سب سے بڑی دعا ہے۔جب بھی آپ سفر پر جاتیں تو یہ دعا ضرور کرتیں:۔بِسْمِ اللَّهِ مَجْرِهَا وَمُرْسَهَا۔خدا تعالیٰ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کو بہت محبت تھی۔قرآن کریم کی تلاوت آپ روزانہ کیا کرتیں۔بلکہ اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کو کوئی بھی تکلیف ہوتی یا حضور کی یاد آتی تو آپ قرآن شریف پڑھنا شروع کر دیتیں۔اپنے دل کا سکون قرآن شریف میں ڈھونڈتی اور حاصل کرتی تھیں۔جب بھی کوئی مشکل وقت ہوتا سورۂ ٹیس کی تلاوت شروع کر دیتیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ نہ جانے لوگوں نے کیوں اتنی پیاری سورۃ کو صرف وفات کے وقت کے لیے مقرر کر دیا ہے حالانکہ حضور فرمایا کرتے تھے تکلیف میں سورہ یس پڑھی جائے تو تکلیف دور ہو جاتی ہے۔حدیثیں سننے کا بے حد شوق تھا روزانہ خاندان کے کسی نہ کسی بچے کو بلا کر حدیث سُنا کرتیں۔کبھی ان یتیم بچیوں میں سے جن کو آپ نے خود پالا تھا کسی ایک کو پاس بٹھا کر اس