سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 13
22 21 حصہ دوم سیرت واخلاق آپ کو اللہ تعالیٰ نے کیوں اپنے مامور کے لیے چنا ؟ یہ بات آپ کی سیرت پر ایک نظر ڈال کر ہی پتہ چل جاتی ہے۔آپ کی سیرت کی نمایاں بات آپ کی عبادت ہے۔آپ پانچوں وقت کی نمازیں با قاعدگی اور بڑی توجہ اور اہتمام سے پڑھتی تھیں۔صرف فرض نمازیں ہی نہیں بلکہ نماز تہجد اور نماز ضحی کی بھی پابند تھیں۔نفلوں کے علاوہ بھی جب موقع ملتا آپ دل کا سکون نماز ہی میں حاصل کرتی تھیں۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب فرمایا کرتے کہ یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا قول ہے کہ:- ” میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔“ یہ حضرت اماں جان کو بھی ورثہ میں ملا تھا۔نمازوں کے علاوہ بھی یہ حال تھا کہ ہر وقت اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے بلند آواز میں دُعائیں کیا کرتیں۔بعض دفعہ بیٹھے بیٹھے ایک دم زور سے کہتیں ، یا اللہ ! اور دعا شروع کر دیتیں اور اس قدر تڑپ ہوتی تھی کہ پاس بیٹھنے والا بھی بے اختیار آپ کی دُعا میں شامل ہو جاتا۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ فرمایا کرتیں کہ اس طرح بے قرار ہو کر دعا آپ کے ہونٹوں سے نکلتی جیسے دم گھٹ کر رُکا ہوا سانس دوبارہ چلتا ہے۔کبھی کبھی مصرع یا شعر کی صورت میں دُعا کیا کرتیں۔ایک بار لاہور میں ایک غیر آباد مسجد کو دیکھ کر آہ بھر کے فرمایا: الہی ! مسجد میں آباد ہوں گر جائیں گر جائیں ہے۔“ آپ کی دعا میں پوری جماعت شامل ہوتی۔سب کے لیے دعا کرتیں۔اکثر کے نام گر جائیں، گر جا کی جمع ہے جو کہ عیسائیوں کی عبادت گاہ کو کہتے ہیں لے کر بڑی بے قراری سے دُعا کرتیں۔ایک بار لیٹے لیٹے اس طرح یا اللہ کہا کہ میں گھبرا گئی ،مگر اس کے بعد یہ جملہ کہا ” میرے نیر کو بیٹا دے۔“ اور خدا نے آپ کے تیر کو دو بیٹے عطا کیے۔آپ صحیح معنوں میں پوری جماعت کی ماں تھیں۔آپ نہ صرف خود نمازوں کی پابندی کرتیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس کی تاکید کرتی رہتیں۔کوئی خاص بات ہوتی ، چاہے وہ اپنے لیے ہو یا کسی اور کے لیے، تو سب سے دعا کرواتیں، خاص طور پر بچوں سے ضرور دعا کرواتیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ ” بچے معصوم ہوتے ہیں اس لیے خدا بچوں کی دعا بہت سنتا ہے۔“ ایک واقعہ خان بہادر چوہدری ابوالہاشم خان صاحب کی بیوی نے سنایا کہ ایک دفعہ وہ اپنی پہلی بیٹی کی پیدائش کے بعد حضرت اماں جان کے پاس دعا کے لیے کہنے گئیں۔نماز کا وقت ہو گیا اور جب اماں جان نماز پڑھ کر دوبارہ واپس آئیں تو ان سے پوچھا لڑ کیو! کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ انہوں نے جواب دیا۔” بچے نے پیشاب وغیرہ کیا ہوا ہے گھر جا کر پڑھیں گے۔‘اس پر فرمایا۔دو بچوں کے بہانے سے نماز ضائع نہ کیا کرو اس طرح بچے خدا تعالی کی ناراضگی کی وجہ بنتے ہیں۔بچہ تو خدا کا انعام ہے۔“ آپ اکثر فرماتیں کہ دعا ضائع نہیں جاتی۔اگر ایک رنگ میں قبول نہ ہو تو دوسرے رنگ میں قبول ہو جاتی ہے یا عبادت میں شمار ہوتی ہے۔قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جسے بیت الدعا“ کہتے ہیں۔یہ حضور اور اماں جان کے کمرے کے ساتھ بنا ہوا ہے اور ان کے کمرے سے ہی اس کمرے کو راستہ جاتا ہے۔اماں جان نے اس کے دروازے سے لے حمد حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب غیر جو افریقہ کے پہلے مربی تھے۔