سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 10
16 15 ہیں سال سے علیحدہ زندگی گزار رہے تھے۔گھر کی رشتہ دار عورتوں کا یہ حال تھا کہ وہ یہ بھی پسند نہ کرتیں کہ کوئی حضرت صاحب کو کھانے کی چیز ہی تحفہ کے طور پر بھیج دے اور نہ ہی خود کھانے پینے کا خیال رکھتیں۔ان حالات میں حضرت اماں جان کا بیاہ کر آنا اور بر الگا لیکن اماں جان نے سب کچھ بھلا کر سب سے اچھا سلوک کیا اور حضور سے اجازت لے کر آپ کی پہلی بیوی بچوں اور بھاوج وغیرہ سے ملنا شروع کر دیا۔آپ سب کا بہت خیال رکھتیں اور ضرورت کے وقت ان کے کام آتیں اور ہر طرح سے مددفرماتیں۔حضرت اماں جان نے خود یہ واقعہ بتایا کہ ایک دفعہ حضرت مرزا سلطان احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو وہ انہیں پوچھنے گئیں۔واپس آکر حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ انہیں یہ تکلیف ہے۔پہلے آپ خاموش رہے۔پھر دوسری مرتبہ کہنے پر فرمایا ”میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں۔یہ دے آؤ مگر اپنی طرف سے دینا۔میرا نام درمیان میں نہ آئے۔“ حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ اور بھی کئی دفعہ حضور نے اشاروں اشاروں میں مجھ سے کہا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام نہ آئے اپنی طرف سے مدد کر دیا کروں۔سوئیں کر دیا کرتی تھی۔“ ہزاروں کہانیاں آپ نے سنی ہوں گی جن میں سوکنوں کے آپس کے جھگڑے اور سوتیلی ماؤں کے خوفناک سلوک کا ذکر کیا جاتا ہے، لیکن حضرت اماں جان چونکہ عام عورتوں سے مختلف تھیں۔ایک تو خود بھی نیک اور متقی تھیں اور بلند حوصلہ رکھتی تھیں دوسرے حضور کی صحبت اور تربیت کا اثر کہ آپ نے باوجود دشمنیوں کے حضرت صاحب کے رشتہ داروں اور اپنے سوتیلے بچوں اور سوکن سے ہمیشہ اچھا سلوک کیا۔حضرت اماں جان کا مقام خدا کی نظر میں اپنے پاک ارادوں اور نیک کاموں کی برکت سے آپ نے اپنے خدا کی خوشنودی حاصل کر لی تھی اور آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سے الہام کیے۔مثلاً ایک الہام میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو اپنی اس مبشر بیوی کی صحت کے لیے خود دعا سکھائی:- رَبِّ اَصِحُ زَوْجَتِى هذه (یعنی اے میرے خدا! میری اس بیوی کو بیمار ہونے سے بچا اور بیماری سے تندرست کر۔) اس رشتے کو خدا نے ایک قابلِ شکر انعام قرار دیا اور فرمایا:- ( ترجمہ ) اس خدا کی تعریف ہے جس نے دامادی اور نسب ہر دو کی رُو سے تم پر احسان کیا۔“ آپ کی عمر کے بارہ میں یہ الہامی دعا سکھائی گئی :- ( ترجمہ ) ”اے میرے رب ! میری عمر میں اور میرے ساتھی کی عمر میں غیر معمولی زیادتی فرما۔“ اور یہ دعا غیر معمولی طور پر پوری ہوئی۔آپ نے بہت لمبی عمر پائی اور جیسا کہ ایک الہام میں یہ بتایا گیا تھا کہ ” تو دور تک کی نسل دیکھے گا۔آپ کی نسل کا یہ سلسلہ حضرت اماں جان سے چلنا تھا اس لیے آپ بھی اس الہام کی دوسری مخاطب تھیں اور یہ الہام آپ نے بڑی شان سے پورا ہوتے دیکھا۔حضرت اماں جان کو خدا کا ساتھ حاصل تھا۔الہام ہے کہ 66 ( ترجمہ ) میں تیرے اور تیری بیوی کے ساتھ ہوں۔“ یعنی الہاماً بھی اللہ تعالیٰ کا ساتھ آپ کو حاصل تھا۔آپ کی شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور کو مخاطب کر کے فرمایا: - (ترجمہ) ”میری اس نعمت کو یاد رکھ جو میں نے تجھ پر کی ہے۔میں نے