سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا

by Other Authors

Page 3 of 28

سیرت حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا — Page 3

1 له بسم اللہ الرحمن الرحیم حالات زندگی پیارے بچو! ہندوستان کے شہر دہلی میں ایک بزرگ بخارا سے آکر آباد ہوئے۔ان کا نام خواجہ محمد طاہر تھا۔ان دنوں ہندوستان پر شہنشاہ اور نگ زیب کی حکومت تھی۔بادشاہ حضرت خواجہ محمد طاہر کو اپنا پیر مانتا تھا اور آپ کی بہت عزت کرتا تھا۔سادات کا یہ خاندان اپنے سلسلہ نسب کی وجہ سے بہت معزز شمار ہوتا تھا۔اس خاندان میں بہت سے بزرگ پیدا ہوئے اور اسی خاندان میں بارھویں صدی ہجری میں حضرت خواجہ محمد ناصر دہلوی کی پیدائش ہوئی۔انہیں اس صدی کا ولی * کہا جاتا ہے اور ان کے بیٹے حضرت خواجہ میر درد کو بھی لوگ تیرھویں صدی کا ولی کہتے ہیں۔انہی خواجہ میر در درحمۃ اللہ علیہ کی نسل میں حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم پیدا ہوئیں جنہیں ہم حضرت اماں جان کہتے ہیں۔آپ نے حضرت اماں جان کا نام سنا ہوگا اور آپ کو شوق بھی ہوگا کہ حضرت اماں جان والے اور نماز میں بڑی پابندی سے پڑھنے والے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کے بعد آپ دونوں بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہو گئے۔آپ کو تمام جماعتِ احمدیہ، حضرت اماں جان کے والدین ہونے کی وجہ سے، نانا جان اور نانی جان کے نام سے یاد کرتی ہے۔حضرت نانا جان حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے جان نثار فدائی اور جماعت احمدیہ کے انتہائی مخلص خادم تھے۔آپ (پیشہ کے لحاظ سے ) اوورسئیر تھے۔قادیان میں جماعت کی سب ہی عمارتیں حضرت نانا جان کی بنائی ہوئی ہیں جن کو دیکھ کر ان کے دین کی خدمت کے شوق کا اندازہ ہوتا ہے۔جس طرح حضرت نانا جان ایک اعلیٰ سید خاندان سے تعلق رکھتے تھے ایسے ہی حضرت نانی جان کا خاندان بھی بہت اونچا تھا۔ان کا نھیال اور ددھیال سید تھا۔حضرت اماں جان آپ دونوں کی اکلوتی بیٹی تھیں البتہ بیٹے دو تھے۔بڑے بیٹے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور چھوٹے بیٹے حضرت میر محمد الحق صاحب تھے۔حضرت اماں جان کو اپنے دونوں بھائی بہت پیارے تھے اور دونوں ہی خدا کے فضل سے مخلص جان نثار احمدی اور دین کے خادم تھے۔کی سیرت اور زندگی کے بارے میں آپ بھی کچھ جانیں۔تو ہم نے سوچا کہ آپ کا یہ شوق پورا پیدائش اور بچپن کریں اور آپ کو اپنی عظیم روحانی ماں کی پیاری پیاری باتیں بتائیں۔آپ کے والدین حضرت اماں جان کے والد میر ناصر نواب صاحب تھے اور آپ کی والدہ کا نام سید بیگم تھا۔دونوں بے حد نیک اور سادہ تھے اور لوگ آپ کی بہت عزت کرتے تھے۔یہ دونوں ہی دین کے پابند، خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرنے ولی کے معنے دوست کے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے سچا پیار کرنے والوں کو ولی اللہ کہتے ہیں۔حضرت اماں جان کی پیدائش 1865ء میں دہلی میں ہوئی۔آپ کی پیدائش سے پہلے حضرت نانا جان کے حالات بہت تنگ تھے۔بے کاری کا زمانہ تھا لیکن آپ کی پیدائش کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ حالات بہتر ہو گئے۔کھوئی ہوئی جائیداد کا ایک حصہ واپس مل گیا اور ملازمت بھی مل گئی جس سے مالی حالات بہت اچھے ہو گئے۔گویا آپ کی پیدائش پر ہی اللہ تعالیٰ نے ظاہر کر دیا کہ یہ ایک بابرکت خاتون ہے۔حضرت نانا جان نے گھر ہی پر آپ کو تعلیم دی۔قرآن کریم کی تعلیم کے علاوہ اُردولکھنا پڑھنا سکھایا۔آپ بچپن ہی