سوانح حضرت علیؓ — Page 4
4 5 ہجرت مدینہ اور جانثاری کا عدیم المثال کارنامہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس وفادار اور جاں نثار عزیز کو اپنی نے جب مدینہ ہجرت فرمانے کا ارادہ کیا تو ہجرت کے اس سفر کے ساتھ دو ایسے صحابہ کا نام ہمیشہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و وفا اور اعتماد کے رشتوں میں سب پر سبقت لے گئے۔عشق و محبت کے باب میں سر فہرست آنے والے یہ دو نام تھے۔پہلے حضرت ابوبکر صدیق اور دوسرے حضرت علی۔حضرت ابوبکر کو تو یہ سعادت عظمی ملی کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسفر بنے اور حضرت علیؓ کے حصہ میں یہ قربانی آئی کہ ہجرت کی پُر خطر رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جگہ آپ کو لٹا دیا اور خود ہجرت فرما گئے۔جگہ چھوڑ کر چلے گئے تو آخر تفتیش کے بعد ان نالائق بد باطن لوگوں نے تعاقب کیا اور چاہا کہ راہ میں کسی جگہ پا کر قتل کر ڈالیں اس وقت اور اس مصیبت کے سفر میں بجز ایک با اخلاص اور یکرنگ اور دلی دوست کے اور کوئی انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نہ تھا۔“ (سرمه چشم آریہ صفحہ 65،64، روحانی خزائن جلد نمبر 2 صفحہ 17،16 حاشیہ) حضرت علیؓ آنحضرت کے بھائی حضرت علی مکہ میں اس لیے رکے رہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جن لوگوں کی فدائیت اور جاں نثاری کا یہ عدیم المثال کارنامہ تھا جو حضرت علی نے بائیس ،تنیس امانتیں پڑی ہوئی تھیں، حضرت علی بحفاظت اُن لوگوں تک پہنچا دیں۔ان تمام امور سے برس کی عمر میں سرانجام دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کو اپنی تحریر میں یوں فارغ ہو کر حضرت علیؓ نے بھی مکہ کو الوداع کہا اور مدینہ ہجرت فرمائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی قیام فرما ہوئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انصار مدینہ اور کفار مکہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ جل شانہ مہاجرین مکہ میں مؤاخات ( یعنی آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنایا جانا ) قائم فرمائی تو بیان فرمایا ہے: نے اپنے اس پاک نبی کو اس بدا رادہ کی خبر دے دی اور مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کر حضرت علی کو اپنا بھائی بنایا۔جانے کا حکم فرمایا اور پھر بفتح و نصرت واپس آنے کی بشارت دی۔بدھ کا روز اور دو پہر کا وقت اور سخت گرمی کے دن تھے جب یہ ابتلا منجانب اللہ ظاہر ہوا۔اس مصیبت کی حالت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک نا گہانی طور پر اپنے قدیمی شہر کو چھوڑ نے لگے اور مخالفین نے مار ڈالنے کی نیت سے چاروں طرف سے اس مبارک گھر کو گھیر لیا۔تب ایک جانی عزیز جس کا وجود محبت اور ایمان سے خمیر کیا گیا تھا جانبازی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر باشارہ نبوی اس غرض سے منہ چھپا کر لیٹ رہا کہ تا مخالفوں کے جاسوس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نکل جانے کی کچھ تفتیش نہ کریں اور اسی کو رسول اللہ سمجھ کر قتل کرنے کے لیے ٹھہرے رہیں۔